.

غزہ کی سرحد پر اسرائیل کے فضائی حملے میں ایک فلسطینی شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

غزہ کی سرحد پر جمعرات کو اسرائیلی فوج کے فضائی حملے میں ایک فلسطینی شہید ہوگیا ہے۔غزہ شہر میں وزارت صحت نے کہا ہے کہ یہ فلسطینی اسرائیلی فضائی حملے میں شدید زخمی ہوگیا تھا۔اس کو شفا اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں وہ اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ گیا ہے۔وزارت نے اس کی شناخت نہیں بتائی ہے۔

اسرائیلی فوج نے اس سے پہلے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ایک طیارے نے سکیورٹی باڑ کے نزدیک ایک مسلح دہشت گرد کو اپنے حملے میں نشانہ بنایا ہے لیکن اس نے یہ نہیں بتایا تھا کہ یہ حملہ لڑاکا جیٹ نے کیا ہے یا کسی ڈرون کے ذریعے اس فلسطینی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔اس نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ اسرائیلی شہریوں کی سکیورٹی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دے گی۔

دریں اثناء غزہ میں وزارت صحت نے گذشتہ جمعہ کو اسرائیلی فوجیوں کی اندھا دھند فائرنگ سے زخمی ہونے والے ایک اور نوجوان کے دم توڑنے کی اطلاع دی ہے۔اس نوجوان کا نام شادی الکاشف تھا ۔اس کی عمر 34 سال تھی اور وہ گذشتہ جمعہ کو غزہ کے جنوبی علاقے میں سرحد کے نزدیک سر میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہوگیا تھا۔تب سے اس کی حالت تشویش ناک تھی۔

غزہ کی پٹی میں گذشتہ جمعہ کو اسرائیلی فوجیوں کی فلسطینی مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ سے شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے۔اس واقعے میں 1400 سے زیادہ زخمی ہوگئے تھے۔ان میں 760 سے زیادہ براہ راست گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے تھے۔

نہتے فلسطینیوں پر سفاکانہ انداز میں فائرنگ کے بعد سے غزہ کی پٹی میں سخت کشیدگی پائی جارہی ہے۔اسرائیلی فوج کی سفاکیت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور جمعہ کو ایک مرتبہ پھر ہزاروں فلسطینی اسرائیل کی چیرہ دستیوں اور مظالم کے خلاف کے مزید بڑے احتجاجی مظاہرےکررہے ہیں۔

اسرائیل کو فلسطینی مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کے بعد انسانی حقوق کے گروپوں کی جانب سے کڑی تنقید کاسامنا ہے جبکہ یورپی یونین اور اقوام متحدہ کےسیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا لیکن اسرائیل نے اس کو مسترد کردیا تھا۔

انتہا پسند صہیونی وزیر دفاع ایویگڈور لائبرمین نے منگل کو ایک دھمکی آمیز بیان میں کہا تھا کہ ’’جو لوگ غزہ اور اسرائیل کے درمیان سرحد ی باڑ کی جانب آئیں گے ، وہ خود ہی اپنی زندگیوں کو خطرات سے دوچار کریں گے‘‘۔

فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ مظاہرین اسرائیلی فوجیوں کے لیے کسی خطرے کا موجب نہیں تھے لیکن اس کے باوجود انھیں براہ ِراست فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا۔