.

یمن میں حوثی باغیوں کے گڑھ کو چھڑانے کے لیے فیصلہ کن کارروائی جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی سرکاری فوج نے صعدہ گورنری کو ایران نواز حوثی باغیوں سے آزاد کرانے کے لیے فیصلہ کن کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے۔ یمنی فوج کا کہنا ہے کہ ملک کے شمال میں واقع صعدہ گورنری حوثی باغیوں کا گڑھ ہے۔ صعدہ کو باغیوں سے چھڑانا پورے ملک میں حوثیوں کی شکست ثابت ہوگا کیونکہ یہ معرکہ یمن کی جنگ کا فیصلہ کن معرکہ ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمنی فوج کے ایک سینیر عہدیدار بریگیڈیئر عبید الاثلہ نے ایک بیان میں کہا کہ صعدہ کو باغیوں سے آزاد کرانے کا معرکہ جاری ہے۔ عرب اتحادی فوج کی معاونت اور مقامی مزاحمتی ملیشیا کی مدد سے یمنی فوج تیزی کے ساتھ صعدہ میں پیش قدمی کررہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لڑائی میں حوثی باغی فرار اختیار کررہےہیں اور انہیں بھاری جانی اور مالی نقصان سے دوچار کیا گیا ہے۔

بریگیڈیئرعبید نے کہا کہ یمنی فوج صعدہ گوریر کے شمالی، مشرقی اور مغربی محاذوں سے پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہیں عرب اتحادی فوج کی فضائی معاونت بھی حاصل ہے جو مختلف مقامات پر حوثیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دن جنگ میں فتووحات کی حیران کن خبروں سے بھرپور ہوں گے۔

صعدہ میں جاری فوجی آپریشن کے انچارج نے کہا کہ فوج حوثیوں کے گڑھ سمجھے جانے والے علاقے کے ایک ایک قصبے، گاؤں اور ڈاریکٹوریٹ کو آزاد کرانے کی کوشش کررہی ہے۔ فوج کی کوشش ہے کہ لڑائی میں عام شہریوں کا کم سے کم جانی نقصان ہو جب کہ حوثی باغی شہریوں کو انسانی ڈھال کے طورپر استعمال کررہےہیں۔

بریگیڈیئر عبید الاثلہ نے کہا کہ جنوب مغربی صعدہ میں الظاھر ڈاریکٹوریٹ اہم ترین محاذ ہے۔ گذشتہ چھ جنگوں کے بعد پہلی بار سرکاری فوج نے مران کے مقام پر حوثیوں کے ٹھکانوں پر توپ خانے سے گولہ باری کی گئی ہے۔ اس ڈاریکٹوریٹ میں کا ایک اہم مقام جبل جمیمہ ہے جو دہشت گرد حوثی گروپ کے بانی حسین بدردالدین کا آبائی علاقہ سمجھا جاتا ہے اور وہاں پر اس کا مزار بھی بنایا گیاہے۔