.

سعودی شہری نے 400 برس پیچھے لوٹ کر مٹی کے گھر میں سکونت اختیار کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی شاعر سعد الخریجی نے مٹی سے بنے پرانے گھروندوں اور بچپن کی یادیں تازہ کرتے ہوئے اپنے اشعار میں کہا کہ " اے لوگوں اس گھر کو گرانا نہیں.. اسے چاہنے والوں کے لیے یادگار کے طور پر رہنے دو ، اسے گزرے برسوں کی محبت میں رہنے دو.. اس کے اندر الفتوں اور رازوں کی کہانی پائی جاتی ہے"۔

انسانی تہذیب میں تعمیرات کا پتہ دینے والا سب سے پرانہ نمونہ مٹی کے گھر ہیں۔ ان کی تعمیر میں بنیادی مواد کے طور پر مٹی کو استعمال کیا گیا۔

سعودی عرب کے صوبے عسیر میں آل عرینہ نامی گاؤں سے تعلق رکھنے والے فن کار خالد محمد آل سالم نے مٹی سے بنے اپنے آبائی گھر کی مرمت اور تزئین کی ہے۔ یہ چار منزلہ گھر خالد کو اُن کے باپ دادا کی طرف سے میراث میں ملا ہے۔ خالد کے والد نے اس مکان کے بحیثیت ورثے اور آباؤ و اجداد کی تاریخی نشانی ہونے کے سبب اپنے بیٹے کو ہدایت کی تھی کہ اسے برقرار رکھا جائے۔

خالد نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ "یہ مکان 400 سال سے زیادہ پرانا ہے۔ تعمیر کے اعلی معیار کے سبب یہ محفوظ رہا۔ والد نے اپنے انتقال کے وقت جو وصیت اور ہدایت کی وہ میں نہیں بُھولا۔ اب میرے دوسرے بیٹے کی پیدائش کے بعد جب کہ میری والدہ بھی مٹی کے گھر مییں سکونت کے لیے بہت مُصر تھیں، میں نے جلد از جلد اس مکان کی مرمت اور تزئین کا کام مکمل کروایا"۔

خالد نے مزید بتایا کہ "میں نے پورے مکان کی درستی کی اور اس عمل میں لکڑی، لوہے کے گارڈر، سیمنٹ اور پتھروں کا بھی استعمال کیا۔ اس کے علاوہ علاقائی ورثے سے تعلق رکھنے والے خوب صورت نقش و نگار کا بھی سہارا لیا۔ میں نے اور میرے بیٹے محمد نے ڈھائی سال کی محنت کر کے اس مکان کو نئی صورت دے دی"۔

سعودی فن کار خالد کے مطابق انہوں نے تزئین کے بعد اس گھر کا افتتاح ربیع الثانی 1436 ہجری میں اپنی والدہ کے ہاتھوں سے کروایا۔ زمینی منزل کو انہوں نے اپنے والد کے زیر استعمال چیزوں اور علاقائی ورثے سے متعلق نادر و نایاب نوعیت کے ساز و سامان سے آراستہ میوزیم کی شکل دے دی۔ یہ اشیاء زراعت، پانی بھرنے، کھیتی باڑی اور آٹا پیسنے میں کام آتی تھیں۔

سال 1437 ہجری میں قصیم صوبے میں سیاحت اور قومی ورثے سے متعلق جنرل اتھارٹی کے سربراہ شہزادہ سلطان بن سلمان بن عبدالعزیز نے خالد کو اعزاز و اکرام سے نوازا۔ اس کے بعد سے خالد نے گھروں کی مرمت اور تزئین سے متعلق اپنی صلاحیتوں اور تجربے کا اُن لوگوں کے لیے استعمال شروع کر دیا جو پرانے یا مٹی کے گھروں کو برقرار رکھنے یا اس میں رہنے کے خواہش مند ہوتے ہیں اور اب خالد اسی شوق اور کام کے ذریعے اپنی روزی کمار رہے ہیں۔