.

’باسیج‘ ملیشیا کے 300 ارکان کا خامنہ ای سے ملک میں اصلاحات کا مطالبہ

جامعات کے طلباء کا سپریم لیڈر کو مکتوب، ملکی حالات پر تشویش کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں ’باسیج‘ ملیشیا کے سابق عہدیداروں اور طلباء کی بڑی تعداد نے رہبر انقلاب آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں انہوں نے ملک کی موجودہ صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایرانی جامعات کے طلباء اور باسیج ملیشیا کے 300 ارکان نے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو مکتوب ارسال کیا ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ملک کی موجودہ ابتر صورت حال انتہائی تشویشناک ہے۔ سپریم لیڈر سے ہمدردانہ اپیل کی گئی ہے کہ وہ ملک میں حقیقی انقلابی اصلاحات لائیں۔

ایرانی طلباء نے ملک کے مستقبل کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ عوام اور حکمرانوں کے درمیان خلیج بڑھتی جا رہی ہے اور اسلامی انقلاب کے حقیقی اہداف پورے نہیں ہو رہے ہیں۔

یہ مکتوب سابق صدر محمود احمدی نژاد کے مقرب چینل ’رویش‘ پر بھی نشر کیا گیا ہے۔

مکتوب میں مزید کہا گیا ہے کہ گذشتہ 40 سال کے دوران کئی مثبت تبدیلیاں بھی رونما ہوئیں۔ عوام کو ان کی دہلیز پر انصاف کی فراہمی، آزادی اور جمہوریت کے میدان میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں۔ ملک میں سست رفتار معاشی ترقی بھی عوام کا ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ اس سے ملک میں بے روزگاری اور غربت مسلسل بڑھ رہی ہے۔

ایرانی طلباء کا کہنا ہے کہ ملک میں حقیقی تبدیلیاں لانے کی ضرورت ہے۔ ملکی دستور کے مطابق ملک میں جوہری تبدیلیاں لا کر عوام کے بنیادی مسائل کا حل نکالا جائے۔

خیال رہے کہ یہ مکتوب ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سابق صدر محمود احمدی نژاد اور سپریم لیڈر کے درمیان تناؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔