.

حوثی ملیشیا مغویوں کو تشدد کے ذریعے موت کی نیند کیسے سُلاتی ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی ملیشیا کی قید سے آزاد ہونے والے ایک کارکن جمال المعمری نے باغیوں کے ہاتھوں خود پر وحشیانہ تشدد کی تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔ جمعرات کے روز مارب میں انسانی حقوق کی تنظیم کے ایک اجلاس میں انہوں نے بتایا کہ حوثیوں کے مخالف ہزاروں شہریوں کے اغوا کیے جانے کے بعد جیل کی سلاخوں کے پیچھے اُن کے ساتھ کیا معاملہ پیش آتا ہے۔

حاضرین کے سامنے المعمری اپنی رُوداد سنا رہے تھے تو اُن کا بایاں بازو حرکت کرنے سے قاصر تھا کیوں کہ تین برسوں کے دوران حوثی ملیشیا کے جیلوں میں المعمری کو وحشیانہ تشدد اور بربریت کا نشانہ بنایا گیا۔ المعمری کی گفتگو سن کر حاضرین کی ایک بڑی تعداد اپنے آنسوؤں کو بہنے سے نہ روک سکی۔

المعمری نے صنعاء میں حوثیوں کی جیلوں میں تشدد کی مختلف قسموں پر روشنی ڈالی، اپنے جسم پر تشدد کے نشانات دکھائے اور یہ بھی بتایا کہ مغوی شہریوں کو کس طرح تشدد سے موت کے گھاٹ اتارا جاتا تھا اور انہیں کس طرح انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاتا تھا۔

المعمری نے انکشاف کیا کہ حوثی ملیشیا نے ایک امریکی شہری کو اغوا کر کے اسے تشدد کے ذریعے مار ڈالا۔ بعد ازاں انہوں المعمری کے زیر استعمال ذاتی دواؤں کی شیشیاں لے کر امریکی شہری کی لاش کے برابر رکھ دیں اور اپنے ٹی وی چینل پر اعلان کر دیا کہ مذکورہ امریکی نے خود کشی کی ہے!.

یمنی قبائل نے حوثیوں کے ایک سینئر کمانڈر کو اغوا کر لیا تھا جس کے بعد باغی قیدیوں کے اغوا کا ایک سمجھوتا کرنے پر مجبور ہو گئے۔ اس کے نتیجے میں المعمری کو بھی مفلوج حالت میں آزادی نصیب ہو گئی۔ المعمری کے مارب پہنچنے کے بعد بھی حوثی قیادت نے اس سے رابطہ رکھا اور مسلسل یہ مطالبہ کیا کہ وہ حوثیوں کی جیلوں میں درپیش تشدد کے بارے میں کوئی انکشاف نہ کرے۔ اس کے مقابل المعمری کو پیش کش کی گئی کہ اس کے گھر سے لُوٹی گئی تمام اشیاء واپس کر دی جائیں گی تاہم المعمری نے یہ پیش کش مسترد کر دی۔