.

غزہ میں فلسطینی مظاہرین پر اسرائیلی فائرنگ، 8 شہری شہید

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی کی مشرقی سرحد پر جمع ہونے والے مظاہرین پر اسرائیلی فوج نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے آٹھ فلسطینیوں کو شہید اور سیکڑوں کو زخمی کردیا ہے۔ طبی کارکنون کا کہنا ہے کہ جمعے کے روز اسرائیلی افواج کے ہاتھوں آٹھ فلسطینی مظاہرین شہید ہوئے، جب ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین اسرائیل غزہ سرحد پر جمع ہوئے۔

غزہ کی وزارتِ صحت نے بتایا ہے کہ شہداء میں ایک 16 برس کا نوجوان شامل ہے، جب کہ تشدد کے واقعات میں 1100 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔

گذشتہ ہفتے سے اب تک اسرائیلی گولیوں کے نتیجے میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد کم از کم 30 ہوچکی ہے۔

’العربیہ‘ کے نامہ نگار کے مطابق اسرائیلی فوج نے سرحد پر جمع ہونے والے فلسطینیوں پر براہ راست گولیاں چلائیں، ان پر آنسوگیس کی شیلنگ کی اور دھاتی گولیوں سے انہیں نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کم سے کم 8مظاہرین شہید اور 1070 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی جا چکی ہے۔ زخمیوں میں سے 442 کو مقامی سرکاری اسپتالوں اور 551 کو ہنگامی طبی مراکز اور 77 کو نجی اسپتالوں میں منتقل کیا گیا ہے۔

زخمیوں میں 12 خواتین، 48 بچے شامل ہیں۔ ان میں سے 25 کی حالت تشویشناک بیان کی جاتی ہے جب کہ 239 کو درمیانے درجے کے زخم آئے ہیں۔

سرحد پر کھڑی باڑ کو نقصان سے بچانے کے لیے، اسرائیلی فوج نے جمعے کے روز آنسو گیس کے گولے پھینکے، ربڑ کی گولیاں چلائیں اور آتشیں ہتھیاروں کا استعمال کیا۔

مظاہرین نے باڑ کے قریب ٹائر جلائے جس سے فضا میں سیاہ دھویں کے بادل بلند ہوئے۔

اسرائیلی فوج نے کہا ہے کہ احتجاج کرنے والے فلسطینیوں نے دھماکہ خیز ڈوائس اور بھڑکتی آگ کے گولے پھینکے، اور بتایا کہ کچھ مظاہرین نے سرحدی باڑ کو پھلانگنے کی کوشش کی۔

اسرائلی وزیر دفاع، ایوگڈرو لبرمین نے احتجاجی مظاہروں کو اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے، انتباہ جاری کیا ہے کہ سرحدی باڑ کے قریب آنے والا شخص اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالے گا۔

اسرائیلی فوج کے ایک اندازے کے مطابق، جمعے کے روز ہونے والے مظاہرے میں تقریباً 20000 افراد شامل تھے۔