.

مصری قبطی پابندی کے باوجود مقبوضہ القدس کیوں اور کیسے جارہے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے قبطی عیسائیوں کے سابق روحانی پیشوا مرحوم پوپ شینودہ سوم نے اپنے ہم مذہبوں پر 1979ء میں مقبوضہ بیت المقدس جانے پر پابندی عاید کردی تھی۔انھوں نے یہ فیصلہ مصر اور اسرائیل کے درمیان اسی سال کیمپ ڈیوڈ میں طے شدہ امن معاہدے کی مخالفت میں بہ طور احتجاج کیا تھا۔

انھوں نے سابق مصری صدر انور السادات کے ہمراہ اسرائیل کے دورے پر جانے سے بھی انکار کردیا تھا اور اپنا یہ مشہور عالم جملہ کہا تھا:’’ میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے کے بعد ہی اپنے مسلم بھائیوں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر القدس ( یروشلیم ) جاؤں گا‘‘۔انھوں نے اس پابندی کی خلاف ورزی کے مرتکبین کو اپنے مذہب سے بے دخل کرنے کی بھی دھمکی دی تھی۔

دراصل قبطی عیسائیوں کے اسرائیل کے مقبوضہ بیت المقدس جانے پر پابندی ان کے پیش رو پوپ سیرل ششم نے 1967ء کی جنگ میں عرب ممالک کی شکست کے بعد عاید کی تھی ۔اسی جنگ کے بعد اسرائیل نے القدس اور فلسطینیوں کے دوسرے علاقوں پر غاصبانہ قبضہ کر لیا تھا۔گذشتہ برسوں کے دوران میں چند ایک قبطی عیسائیوں ہی نے اس پابندی کی خلاف ورزی کی جرأت کی تھی اور مقبوضہ بیت المقدس سے واپسی پر وہ بھی معافی کے خواستگار ہوگئے تھے۔ان میں سے بعض نے تو اخبارات میں باقاعدہ معافی کے اشتہارات شائع کرائے تھے۔

تاہم پوپ تواضروس دوم کے 2012ء میں قبطیوں کے روحانی پیشوا بننے کے بعد صورت حال میں تبدیلی رونما ہوئی تھی۔اب حال ہی میں 2018ء میں قبطیوں کے مقدس ہفتے کے دوران میں قاہرہ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے زائرین کی ایک بڑی تعداد نے مقبوضہ بیت المقدس کا رُخ کیا ہے۔ائیر سیناء کی پروازوں کے ذریعے ان قبطیوں کو پہلے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب کے بن گوریان ہوائی اڈے پہنچایا گیا اور وہاں سے یہ لوگ مقبوضہ بیت المقدس میں مقدس مقامات کی زیارات کے لیے گئے تھے۔ان زائرین کے دوروں کا اہتمام پرائیویٹ ٹریول ایجنسیوں نے کیا تھا اور انھیں بھی گذشتہ کئی عشروں کے بعد پہلی مرتبہ گرجا گھروں میں اپنے اشتہارات چسپاں کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔

پابندی کا خاتمہ نہیں،سختی بھی نہیں

قبطی آرتھو ڈکس چرچ کے وکیل نجیب جبرائیل کے مطابق ’’اس سال میں اب تک ایک تخمینے کے مطابق سات ہزار کے لگ بھگ قبطی عیسائی یروشلیم گئے ہیں ۔ان کے وہاں جانے پر پابندی سرکاری طور پر ختم نہیں کی گئی ہے اور نہ فی الوقت اس کا سختی سے نفاذ کیا جارہا ہے‘‘۔

ان کے بہ قول :’’مقدس سرزمین میں قبطی چرچ کے سربراہ آرچ بشپ انتونیو نے پوپ تواضروس سے کہا ہے کہ قبطی زائرین پر کوئی تعزیر عاید نہ کی جائے کیونکہ ان کے اس طرح مقبوضہ بیت المقدس کے دوروں سے چرچ کی سرزمین اور شہر کی عیسائی شناخت کو محفوظ بنانے اور اس کو صہیونیوں سے بچانے میں مدد ملے گی‘‘۔

انھوں نے بتایا کہ بتدریج پابندیوں میں نرمی کی جارہی ہے اور فی الحال دُہری شہریت کے حامل افراد اور ضعیف العمر شہریوں ہی کو مقبوضہ بیت المقدس جانے کی اجازت دی گئی ہے ۔اس کے بعد مرحلہ وار سب کو وہاں جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے بھی قبطیوں سے یہ اپیل کی تھی کہ انھیں دوسرے عربوں کی طرح القدس آنا چاہیے ۔تاہم جبرائیل کا کہنا تھا کہ وہ قبطیوں کے مقبوضہ بیت المقدس جانے کے حق میں نہیں کیونکہ یہ فیصلہ ابتدائی طور پر سیاسی تھا اور قبطیوں پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے معاونت کا الزام عاید کیا جاسکتا ہے۔

صحافی اسامہ سلامہ نے عربوں کے یروشلیم کے دوروں کے اثرات ومضمرات کے حوالے سے مختلف سوالات اٹھائے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ جب پوپ شینودہ نے قبطیوں کے القدس جانے پر پابندی عاید کی تھی تو ان کے اس اقدام کو بہت سراہا گیا تھا اور انھیں عربوں کا چیمپئن اور عربوں کا پوپ قرار دیا گیا تھا۔ پوپ تواضروس دوم سے بھی یہی توقع کی جاتی تھی کہ وہ ان کی پیروی کریں گے۔

ان کے بہ قول قبطیوں کے القدس کے دوروں سے فلسطینی کاز کو کچھ فائدہ نہیں پہنچا ہے۔ اسی طرح یورپ میں بسنے والے عیسائیوں کی آمد بھی اسرائیلی حکام کو گرجا گھروں پر قبضوں یا ان کے خلاف اقدامات سے نہیں روک سکی ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ اسرائیل نے چند ہفتے قبل ہی گرجا گھروں پر نئے ٹیکس نافذ کردیے ہیں جس کے نتیجے میں چرچ مقدس سپلشر کو بند ہونا پڑا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس پابندی کی یا تو سختی سے مکمل پاسداری کی جانی چاہیے یا پھر اس کو سرے سے ہی ختم کردیا جانا چاہیے ۔ان کے درمیان کی صورت حال خطرناک ہوگی۔

مقبوضہ بیت المقدس جانے والے قبطی زائرین ایک اور بھی کہانی بیان کرتے ہیں۔انھوں نے بتایا ہے کہ وہ مصر سے وہاں اسرائیل کے ویزے پر جاتے ہیں لیکن مجموعی طور پر اس سے فائدہ فلسطینیوں ہی کو پہنچتا ہے۔وہ مقبوضہ المقدس یا بیت لحم میں فلسطینیوں کے ملکیتی ہوٹلوں میں ٹھہرتے ہیں، ان ہی کی بسوں یا دوسری گاڑیوں میں سفر کرتے ہیں اور دیگر خدمات کے لیے بھی ان سے رجوع کرتے ہیں۔اس طرح ان دوروں سے فلسطینیوں کو مالی فائدہ پہنچتا ہے،اسرائیل کو نہیں ۔