.

ولی عہد نے سعودی مصنوعی سیارے پر کیا الفاظ تحریرکیے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کل جمعہ کو امریکا میں سان فرانسیسکو کی وادی سیلیکون میں ’ایرو اسپیس اینڈ ڈیفینس‘ کمپنی لاک ہیڈ مارٹن کے ہیڈ کواٹر کا دورہ کیا۔ اس موقع پر کمپنی کےعہدیداران سے ملاقات کے دوران دو طرفہ تعاون کے فروغ سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

لاک ہیڈ مارٹن کے صدر دفتر کے دورے کے دوران ولی عہد محمد بن سلمان کو فضائی دفاعی، ایوی ایشن، میزائل ٹیکنالوجی اور مصنوعی سیاروں کے ذریعے ٹیلی کمیونیکیشن میں استعمال ہونے والی جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔

اس موقع پر شہزادہ محمد بن سلمان کو ’ہائی ٹیک’ فضائی دفاعی نظام ’تھاڈ‘ کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی۔ خیال رہے کہ سعودی عرب امریکا کے ساتھ THAAD کی خریداری اور اس کی مقامی سطح پر تیاری میں دلچسپی لے رہا ہے اور اس حوالے سے امریکا سے مذاکرات بھی جاری ہیں۔

سعودی عرب امریکی کمپنی کے ساتھ مل شاہ عبدالعزیز سائنس ٹیکنالوجی یونیورسٹی کے تعاون سے ملک میں ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سینٹر قائم کرنا چاہتا ہے۔

مصنوعی سیارہ اور شاہ عبدالعزیز ٹٰیکنالوجی سٹی

وادی سیلیکون کے دورے کے دوران ولی عہد نے شاہ عبدالعزیز ٹیکنالوجی سٹی کے لیے تیار کردہ جدید صلاحیتوں کے حامل مصنوعی سیارے کے بارے میں بھی آگاہ کیا گیا۔ یہ اپنی نوعیت کا جدید سہولیات کا حامل مصنوعی سیارہ ہے جو سعودی عرب کی فضائی ٹیکنالوجی کےمیدان میں اہم ترین پیش رفت ہے۔

ولی عہد نے لاک ہیڈ مارٹن کے ماہرین کے ساتھ کام کرنےوالے سعودی انجینیروں کے ساتھ بھی ملاقات کی۔ اور اس ٹیکنالوجی کو سعودی عرب میں منتقل کرنے، اس کے پیشہ وارانہ اور ماحولیاتی تجربات، زیادہ سے زیادہ اقتصادی مواقع کے حصول اور مملکت میں ملازمت کے مواقع پیدا کرنے کے لیے مصنوعی سیاروں کو مقامی سطح پر تیار کرنے پر تبادلہ خیال کیا۔

محمد بن سلمان کے مصنوعی سیارے کے لیے الفاظ

وادی سیلیکون کے دورے کے دوران لاک ہیڈ مارٹن کے ذمہ داران سے بات چیت میں محمد بن سلمان نے کمپنی کی دفاعی صنعت کو سعودی عرب منتقل کرنے پر تفصیلی بات چیت کی۔

کمپنی کے صدر دفتر کے دورے کے اختتام پر انہوں نے سعودی عرب کے لیے تیار کردہ مصنوعی سیارے پر نصب کیے جانے والے ایک ٹکڑے پر ’بادلوں سے آگے‘ کےالفاظ تحریر کیے۔ یہ مصنوعی سیارہ سعودی عرب کی جانب سے فضاء میں چھوڑا جائے گا، جو سعودی عرب کے مستقبل میں محفوظ ٹیلی کمیونیکشن اور انٹرنیٹ کے میدان میں ایک انقلاب پیش رفت ہوگی۔