خامنہ ای نے ایران کے 280 ارب ڈالر پر قبضہ کر لیا : اپوزیشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایرانی حزب اختلاف کے ذرائع نے بتایا ہے کہ ایران کے رہبرِ اعلی علی خامنی ای نے جنوبی افریقہ کے بینکوں میں منجمد ایرانی مالی اثاثوں میں 280 ارب ڈالر پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ رقم 2015ء میں تہران اور چھ بڑے ممالک (5+1) کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے کے نتیجے میں آزاد کی گئی تھی۔

ایرانی اپوزیشن کی "سبز تحریک" کے کارکنان کے زیر انتظام ویب سائٹ "آمد نیوز" نے انکشاف کیا ہے کہ خامنہ ای نے مارچ کے اواخر میں اپنے دفتر کے ایک ذمّے دار اسماعیل صفاریان کی سربراہی میں ایک ٹیم کو جنوبی افریقہ میں موجود ایرانی تیل کی آمدنی میں سے 280 ارب ڈالر واپس لانے کی ذمّے داری سونپی۔اب اس رقم کو سوئٹزرلینڈ، آسٹریا اور لیختینستائن میں خامنہ ای اور ان کے بیٹوں کے بینک کھاتوں میں منتقل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی صدر حسن روحانی اس رقم کو ملکی خزانے میں منتقل کرنا چاہتے تھے تا کہ ملک کو اقتصادی طور پر ڈھیر ہو جانے سے بچایا جا سکے۔ یہ رقم بین الاقوامی پابندیوں کے سبب 2005ء سے کیپ ٹاؤن کے بینکوں میں پھنسی ہوئی تھی۔

ذرائع نے مزید بتایا کہ اسماعیل صفاریان جس کے پاس آسٹریا کی شہریت بھی ہے وہ علی خامنہ ای کے دوسرے بیٹے مجتبی خامنہ ای کا مقرب ہے۔ وہ خامنہ ای کے گھر کے معاشی امور کو دیکھتا ہے اور ایرانی پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس میں کافی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔

آمد نیوز نے رہبر اعلی کے بیٹے مجتبی اور اسماعیل صفاریان کے درمیان بات چیت کی صوتی ریکارڈنگ بھی جاری کی ہے۔ یہ گفتگو ایک ہفتہ پہلے اُس وقت ہوئی جب مجتبی خامنہ ای اپنے اہل خانہ کے ساتھ لندن کے خفیہ دورے پر تھا۔ مجتبی جمعے کے روز برطانیہ سے واپس تہران لوٹا ہے۔

یاد رہے کہ آزاد ذرائع سے ان معلومات کے درست ہونے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔ ایرانی حکومت کی جانب سے بھی اپوزیشن کی سبز تحریک کے ان انکشافات پر کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا۔

اس سے قبل سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد بھی رہبر اعلی خامنہ ای پر عوام کی دولت چوری کرنے اور 190 ارب ڈالر کی رقم ہتھیا کر اسے اپنے زیر انتظام اداروں میں تقسیم کرنے کا الزام عائد کر چکے ہیں۔

رواں سال کے آغاز پر احتجاج کے لیے گھروں سے نکلنے والے ایرانی عوام نے رہبر اعلی علی خامنہ ای کی ولایت فقیہ کے نظام کے خلاف نعرے بازی کی۔ نعروں میں الزام لگایا گیا کہ خامنہ ای نے ایرانی عوام کا مال لُوٹ کر انہیں بھوک اور غربت کی چکی میں پیس ڈالا اور عوام کی دولت کو اپنی شہنشاہیت کی طمع ، شام ، یمن، لبنان اور دیگر ممالک میں فرقہ وارانہ جنگوں اور دہشت گرد تنظیموں پر لُٹا دیا۔

انسدادِ غربت سے متعلق عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایرانی رہبر اعلی کی دولت 95 ارب ڈالر کے قریب ہے اور ایران کی آبادی کا صرف 5% حکمراں ٹولہ ایران کی دولت کے تمام تر وسائل پر قابض ہے۔

امریکی ایوانِ نمائندگان نے دسمبر 2017ء میں ایک قرار داد منظور کی تھی۔ اس قرار داد کی رُو سے امریکی وزارت خزانہ کو پابند بنایا گیا کہ وہ 70 ایرانی رہ نماؤں کے اثاثوں اور مالی دولت کی تفصیلات جاری کرے جن میں علی خامنہ ای سرِ فہرست ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں