سعودی شہری نے اپنے گھر کو لائبریری میں بدل ڈالا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں ایک شہری نے اپنے گھر کو لائبریری میں تبدیل کر دیا۔ قطیف شہر کے جنوب مغرب میں واقع گاؤں اُم الحمام میں سعودی شہری علی الحرز کی لائبریری کا دورہ کرنے والے لوگ ماضی اور ورثے کی یادوں میں کھو جاتے ہیں۔ لائبریری میں نادر و نایاب نوعیت کی دستاویزات، مخطوطات، اخبارات، کرنسیاں اور دیگر ساز و سامان موجود ہے جو سعودی عرب کی تاریخ اور تہذیب و ثقافت کا ایک اہم حصّہ ہے۔

علی الحرز نے مطالعے کے لیے لوگوں کی حوصلہ افزائی کے واسطے یہ تجربہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کی قائم کردہ لائبریری کا نام "جدل" ہے۔ اس میں ادب، شاعری، ناول نگاری اور دیگر موضوعات سے متعلق ہزاروں کتابیں شامل ہیں جو آنے والوں کی توجہ کا مرکز ہوتی ہیں۔ علی الحرز کا گھر محققین ، دانش وروں اور اکیڈمکس کے لیے منزل مقصود کی حیثیت اختار کر گیا ہے۔

علی الحرز نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے تیرہ برس کی عمر سے کتابیں جمع کرنا شروع کی تھیں۔ وہ جنون کی حد تک مطالعے کا شوق رکھتے ہیں۔ لائبریری کے شیلفوں میں ہر عمر کے افراد کے لیے مختلف علوم اور شعبوں سے متعلق 30 ہزار سے زیادہ کتابیں موجود ہیں۔ ان کے علاوہ پرانے زمانے کے ایک لاکھ اخبارات اور جریدے بھی شامل ہیں۔ الحرز کے پاس بڑی فائلیں ہیں جن میں وہ مشرقی صوبے کے شہروں اور دیہات کے مطابق خبروں کو آرکائیو کرتے ہیں۔ جدل لائبریری کے تین مرکزی ہال ہیں جن کے نام ارسطو، افلاطون اور سقراط ہیں۔ محققین کے واسطے یہ لائبریری ایک خزانے کی حیثیت رکھتی ہے جہاں چوتھی صدی ہجری کے بعض قدیم مخطوطات بھی موجود ہیں۔

علی الحرز نے ہر ہال میں طلبہ اور محققین کے لیے مطالعے اور مباحثے کے واسطے جگہ مخصوص کی ہے۔ ہال کے شیلفوں میں مذہب، سیاست، سائنس، معیشت اور تاریخ کے علاوہ انسان اور زبان کی معرفت سے متعلق تمام علوم کی حامل کتابیں سلیقے اور ترتیب کے ساتھ سجی دکھائی دیتی ہیں۔

الحرز نے اپنے گھر کا ایک حصّہ ثقافتی دیوان خانے کے طور پر مخصوص کر دیا ہے۔ یہاں ہر دو ہفتوں بعد مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے تخلیق کار ملاقات باہمی ملاقات میں اپنا کام پیش کر کے اُس پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ ملاقات کا اہم ترین مقصد ایک دوسرے سے تعارف حاصل کرنا ہوتا ہے۔ اس موقع پر مہمانوں کی تواضع مشرقی صوبے کے روایتی عربی قہوے سے کی جاتی ہے۔

اگرچہ ہر مرتبہ ثقافتی دیوان خانے میں بیس سے زیادہ افراد کو دعوت نہیں دی جاتی تاہم اس کے باوجود یہاں ہونے والی نشست کی مقبولیت اور افادیت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

علی الحرز کی "جدل لائبریری" تاریخ کی جان کاری حاصل کرنے کے خواہش مند محققین کے لیے آئیڈیل مقام بن چکی ہے۔ یہاں آنے والوں میں اسکول ، کالج اور یونی ورسٹی کے طلبہ و طالبات کے علاوہ خصوصی شعبوں میں تحقیق کرنے والے محققین شامل ہوتے ہیں۔

اس منفرد لائبریری نے سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں رہنے والوں کی سماجی زندگی پر انتہائی مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔ یہاں آنے والوں کو آزادی اظہار کا پورا موقع میسر آتا ہے اور وہ ادبی فن پاروں پر جرح اور تنقید کے حوالے سے اپنے خیالات کا تبادلہ کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں