.

سعودی عرب کے علاقے "العلا" کی ترقی کے لیے فرانس کے ساتھ معاہدہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان فرانس کے سرکاری دورے پر ہیں۔ اس دورے کے دوران مملکت کے مغربی علاقے "العلا" کی ترقی کے لیے دونوں ممالک درمیان ایک معاہدے پر دستخط ہوں گے۔

سعودی عرب میں آثاریات سے بھرپور علاقے العلا کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے جو قومِ ثمود اور مدائنِ صالح سے جا کر ملتی ہے۔ محققین نے یہاں 900 قبل مسیح میں قدیم عرب مملکت لحیان کے دور کے عبادت خانوں اور مجمسوں کا انکشاف کیا۔ اس کے نتیجے میں یہ مملکت میں تاریخی ورثے کے حوالے سے ایک اہم ترین مقام کی حیثیت اختیار کر گیا۔

فرانسیسی اخبار Le Monde نے سعودی ولی عہد کے دورے سے قبل شائع ایک رپورٹ میں مدائنِ صالح کو "تہذیبی خزانہ" قرار دیا تھا۔ یہ اس جانب اشارہ تھا کہ فرانس اس مقام کو ترقی دینے کے حوالے سے خصوصی شغف رکھتا ہے۔

سعودی کابینہ نے جولائی 2017ء میں العلا کے علاقے کےلیے ایک شاہی کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دی تھی۔ اس کا مقصد علاقے کو اس کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کی روشنی میں ترقی یافتہ صورت فراہم کرنا ہے۔

العلا میں ترقیاتی کاموں کے سلسلے میں سعودی عرب اور فرانس کے درمیان معاہدے کی مدت 10 برس ہو گی۔ اس کے تحت فرانس ایک خصوصی ایجنسی قائم کرے گا جو یہاں ترقیاتی منصوبے کی نگرانی کرے گی۔ البتہ ابھی تک اس منصوبے کی لاگت واضح نہیں ہے۔

"العلا" کے لیے فرانسیسی نمائندے جیرار میسٹرالے نے اس سمجھوتے کو"غیر مسبوق" نوعیت کا معاہدہ قرار دیا۔ معاہدے میں ثقافتی اور فنّی پہلوؤں کے علاوہ انفرا اسٹرکچر، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے عوامل کا بھی خاص خیال رکھا جائے گا۔ اس سلسلے میں تاریخی ورثے کو نمایاں کرنے کے واسطے فرانس ہر ممکن خدمات پیش کرے گا۔

دوسری جانب العلا کے علاقے کے لیے شاہی کمیٹی کے ڈائریکٹر جنرل عمر مدنی کا کہنا ہے کہ آئندہ تین سے پانچ برسوں کے دوران علاقے میں سیاحوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ معاہدے میں شامل متعلقہ علاقہ 22 ہزار مربع کلو میٹر تک پھیلا ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیم یونیسکو نے 2008ء میں مدائنِ صالح کو عالمی ورثے کے مقامات کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ یہ سعودی عرب کا پہلا مقام ہے جو مذکورہ فہرست میں شامل کیا گیا۔

مدائنِ صالح میں بہت بڑے قبرستان بھی واقع ہیں۔ یہاں شمالی عرب کی قدیم قوم انباط کے زمانے کے 50 نقش و نگار موجود ہیں۔ انباط کے قبرستان میں 111 قبریں پائی جاتی ہیں جن میں سے 94 قبریں نقوش سے آراستہ ہیں۔ ان کے علاوہ علاقے میں پانی کے کنوئیں بھی واقع ہیں۔