.

قطر آگ سے کھیل رہا ہے : سابق امریکی عسکری عہدے دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت دفاع کے سابق سکریٹری Dov S. Zakheim نے قطر سے مطالبہ کیا ہے کہ اگر وہ اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ حالیہ بحران سے نکلنا چاہتا ہے تو وہ اپنی خارجہ پالیسی میں ترمیم کرے اور دہشت گردی کی سپورٹ روک دے۔امریکی عہدے دار کے مطابق قطر "آگ سے کھیل رہا ہے" اور دہشت گرد جماعتوں کو سپورٹ فراہم کر کے ایک بہت بڑی غلطی کا مرتکب ہو رہا ہے۔

ڈوو زیکیم 2000ء میں قطر میں العدید کے فوجی اڈّے پر امریکی آپریشنز کی توسیع کے بھی ذمّے دار تھے۔ انہوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کی انگریزی ویب سائٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قطر کی خارجہ پالیسی جو ہر کسی کے ساتھ معاملہ بندی پر انحصار کرتی ہے درحقیقت یہ ہی مسائل کا سبب بنی۔

زیکیم کے مطابق کانگریس میں بالخصوص ریپبلکن حلقوں میں قطر کے حماس جیسی اسلام پسند تنظیموں کے ساتھ تعلقات پر تشویش پائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ "کانگریس میں ریپبلکن اکثریت اس کو قبول نہیں کرے گی۔ یقینا حماس جانتی ہے کہ اب سے 10 برس بعد وہ غزہ پٹی پر حکومت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے"۔

زیکیم کے مطابق امریکی سیاست دان نہ صرف قطر کی الاخوان المسلمین کے لیے معاونت کے حوالے سے پریشان ہیں بلکہ لبنان میں حزب اللہ جیسی دہشت گرد جماعتوں کے لیے دوحہ کی سپورٹ پر بھی تشویش کا شکار ہیں جو فرقہ واریت کے ذریعے خطے کے خد و خال تبدیل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

زیکیم نے مزید کہا کہ "ہم قطر کا خلیج تعاون کونسل اور مصر کے ساتھ تصفیہ چاہتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ قطری آگ سے کھیل رہے ہیں اور دوسروں کے ساتھ خود کو بھی نقصان پہنچائیں گے"۔

زیکیم کے نزدیک قطر نے بائیکاٹ کرنے والے ممالک سعودی عرب ، امارات ، بحرین اور مصر کے ساتھ بحران کے حل کے واسطے کئی اقدامات کیے تاہم وہ ان پر عمل درامد میں کامیاب نہیں ہوا۔ گزشتہ ماہ 22 مارچ کو قطر نے بائیکاٹ کرنے والے گروپ چار کے ممالک کو مطلوب افراد کو دہشت گردی کی فہرست میں شامل کر لیا۔

زیکیم کے نزدیک اہم بات یہ ہے کہ دوحہ یہ واضح کرے کہ وہ ان دہشت گرد جماعتوں کی فنڈنگ کو قطر کے اندر ایک جُرم شمار کرتا ہے تاہم دوحہ ایسا نہیں کر رہا۔