.

لیبیا میں بچوں کے قاتلوں کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا میں شہریوں نے دو سال قبل تین کم سن سگے بہن بھائیوں کو اغواء کے بعد قتل کرنے والے دہشت گردوں کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کل اتوار کو ملک کے مختلف شہروں میں تین کم سن سگے بہن بھائیوں کے قاتلوں کو سزائے موت دینے کے حق میں ریلیاں نکالی گئیں اور مجرموں کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا گیا۔

خیال رہے کہ دو سال قبل ایک مسلح گروپ کے عناصر نے تین بچوں کو اغواء کے بعد بے دردی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ بچوں کی عمریں 12 سال سے کم تھیں اور وہ تینوں سگے بھائی تھے۔ مسلح دہشت گردوں نے انہیں مغربی لیبیا کے صرمان شہر سے اغواء کیا جس کے بعد انہیں قتل کردیا گیا تھا۔

لیبیا میں یہ احتجاج ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب اغواء کے بعد قتل کیے گئے بچوں کی لاشیں ملی ہیں۔دسمبر 2015ء کو اغواء ہونے کے بعد ان بچوں کے بارے میں کوئی خبر نہیں تھی۔ ان کی لاشیں صرمان شہرمیں جنگل سے ملی ہیں جس کے بعد عوام میں شدید غم وغصہ پایا جا رہا ہے۔

صرمان شہر میں ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے میں ہزاروں شہریوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں مقتول بچوں کی تصاویر اٹھا کر قاتلوں کی فوری گرفتاری اور انہیں سرعام پھانسی دینے کے حق میں نعرے لگائے۔

ایک مقامی سماجی کارکن عادل العوامی کا کہنا ہے کہ قاتلوں کو اسی جگہ اور اسی طریقے سے موت کے گھاٹ اتار ا جانا جہاں اور جس طریقے سے انہوں نے معصوم بچوں کا خون کیا ہے تاکہ مجرموں کو عبرت ناک سبق سکھایا جا سکے۔

سوشل میڈیا پر بھی مقتول بچوں کےساتھ مکمل اظہار یکجہتی کے ساتھ ساتھ قاتلوں کی فوری گرفتاری اور انہیں عبرت ناک سزا دینے کا مطالبہ زور پکڑ گیا ہے۔