.

’غزہ میں کوئی معصوم لوگ نہیں‘: اسرائیلی وزیر دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیر دفاع لائبر مین نے اپنے ایک متنازعہ بیان میں کہا ہے کہ حماس کے زیر انتظام غزہ پٹی میں ’کوئی معصوم لوگ نہیں‘ ہیں۔ اس فلسطینی علاقے میں احتجاجی مظاہروں اور جھڑپوں میں دس دنوں میں تیس فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع ایوگڈور لائبر مین نے اسرائیلی پبلک ریڈیو کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ غزہ پٹی کے فلسطینی علاقے میں ’کوئی معصوم لوگ ہیں ہی نہیں‘۔

اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا، ’’(غزہ میں) ہر کسی کا تعلق حماس سے ہے۔ ہر کوئی حماس سے تنخواہ وصول کرتا ہے۔ وہ تمام کارروائیاں، جن کے ذریعے ہمیں چیلنج کیا جا رہا ہے اور سرحد کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ حماس کے عسکری بازو کی سرگرمیاں ہیں۔‘‘

غزہ میں وزارت صحت کے مطابق غزہ پٹی اور اسرائیل کے درمیان سرحد پر ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی گزشتہ دس دنوں سے اپنا جو احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں، اس دوران ان مظاہرین کی اسرائیلی دستوں کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں اور اسرائیلی فائرنگ کے نتیجے میں اب تک کم از کم 30 فلسطینی شہید کیے جا چکے ہیں جبکہ زخمی فلسطینیوں کی تعداد بھی سینکڑوں میں بنتی ہے۔ ان جھڑپوں میں کسی اسرائیلی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔

ان حالات میں اسرائیل کو اس وجہ سے بڑھتی ہوئی تنقید اور بین الاقوامی برادری کے چبھتے ہوئے سوالات کا سامنا ہے کہ اسرائیلی دستوں نے فلسطینی مظاہرین پر وہ فائرنگ کیوں کی، جو اب تک درجنوں انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن چکی ہے۔

غزہ پٹی اور اسرائیل کی درمیانی سرحد کے قریب فلسطینی مظاہرین نے اپنا احتجاج 30 مارچ کو شروع کیا تھا اور اس دوران جب ان ہزاروں مظاہرین کی اسرائیلی دستوں کے ساتھ جھڑپیں شروع ہو گئی تھیں، تو اسرائیلی فوجیوں کی طرف سے کی گئی فائرنگ کے نتیجے میں اس روز 19 فلسطینی شہید گئے تھے۔