.

’فرانس سعودی عرب میں سرمایہ کاری کرنے والا تیسرا بڑا ملک‘

’80 فرانسیسی کمپنیاں سعودیہ میں سرمایہ کاری کررہی ہیں‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب ۔ فرانس بزنس کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر محمد بن لادن نے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کے دورہ فرانس کی اقتصادی اور معاشی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے اسے غیرمعمولی اہمیت کا حامل قرار دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بزنس کونسل کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ ولی عہد کے دورہ فرانس کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اس تاریخی دورے کے دوران کئی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے معاہدوں کی توقع ہے۔ ان کاکہنا تھا کہ ولی عہد محمد بن سلمان ویژن 2030ء کے اہداف کے پیش نظر زیادہ سے زیادہ غیرملکی سرمایہ کار کمپنیوں سے سرمایہ کاری کے حصول کے لیے کوشاں ہیں۔

ڈاکٹر بن لادن کا کہنا تھا کہ وہ سعودی ولی عہد کے دورہ فرانس کے موقع پر مقامی تاجروں اور بڑے سرمایہ کاروں کا ایک اجلاس منعقد کریں گے تاکہ سعودی عرب میں سرمایہ کاری کے مزید مواقع سے استفادہ کیا جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ فرانسیسی سرمایہ کار ماحولیات، پانی، زراعت، مواصلات، بنیادی ڈھانچے،سائنس وٹیکنالوجی اور کئی دوسرے شعبوں میں سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔

ستائیس ہزار ملازمتیں

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر محمد بن لادن نے کہا کہ فرانس سعودی عرب کا اہم ترین تجارتی اور کاروباری حلیف ہے۔ سعودی عرب میں سرمایہ کاری کرنے والے ممالک میں فرانس کا تیسرا نمبر ہے۔ فرانس نہ صرف سعودی عرب میں وسیع پیمانے پرکئی شعبوں میں سرمایہ کاری کررہاہے بلکہ نوجوانوں کے لیے ملازمت کے مواقع بھی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب میں اس وقت فرانس کی 80 بڑی فرمیں متنوع شعبوں میں سرمایہ کاری کررہی ہیں اور انہوں نے 27 ہزار سعودی شہریوں کو باعزت روزگار فراہم کر رکھا ہے۔

ڈاکٹر محمد بن لادن نے کہا کہ فرانس میں مقامی سطح پر تیار ہونے والی مصنوعات کو اب سعودی عرب منتقل کرنے کے لیے مختلف پہلوؤں پرکام ہو رہا ہے۔ سعودی ماہرین فرانسیسی تجربے اور مہارتوں سے استفادہ کرتے ہوئے مملکت کے اندر مختلف سرمایہ کاری کے منصوبوں پر کام کرتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ویژن 2030ء ان کا اہم ترین ہدف ہے اور وہ اس ہدف کے پیش نظرمملکت میں سرمایہ کاری بڑھانے، بنیادی ڈھانچے، بجلی، پانی، ٹرانسپورٹ، صحت ، سائنس وٹیکنالوجی اور تعلیم جیسے شعبوں فرانس کےساتھ تعاون بڑھا رہے ہیں۔