.

"نہرِ سلوی" سے سعودی سیاحت اور قطر کی تنہائی میں اضافہ ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی جانب سے نہرِ سلوی کا منصوبہ منظور ہونے کی صورت میں قطر اقتصادی طور پر مزید تنہا ہو جائے گا۔ اس منصوبے کے ذریعے سعودی عرب خلیج عربی کے مغربی ساحل پر مکمل طور پر غالب آ جائے گا اور مملکت اور قطر کے درمیان واقع "سلوی" کی سرحد بے حیثیت ہو کر رہ جائے گی۔

سعودی میڈیا میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق مذکورہ نہر کھودنے کے منصوبے میں 9 کمپنیاں شریک ہوں گی اور توقع ہے کہ منصوبے کو صرف بارہ ماہ میں مکمل کر لیا جائے گا۔

نہرِ سلوی کی لمبائی 60 کلومیٹر اور چوڑائی 200 میٹر ہو گی۔ نہر کی گہرائی 15 سے 20 میٹر کے درمیان ہو گی۔ اس کے نتیجے میں یہاں سے ہر طرح کے مسافر بحری جہاز اور بحری آئل ٹینکر گزر سکیں گے جن کی انتہائی لمبائی 300 میٹر اور چوڑائی 33 میٹر تک ہو۔

منصوبے کی ابتدائی لاگت کا اندازہ 2.8 ارب ریال لگایا گیا ہے۔

نہرِ سلوی کی کھدائی کے نتیجے میں جہاز رانی کا ایک رُوٹ سامنے آنے کے علاوہ علاقائی اور عالمی سطح پر سیاحت کے لیے ایک پرکشش علاقہ بھی وجود میں آ جائے گا۔ ساتھ ہی نہر کے دونوں جانب بندرگاہوں اور ٹرمینلوں کی تعمیر بھی عمل میں آئے گی جو مختلف نوعیت کے سمندری کھیلوں کے لیے مخصوص ہونے کے علاوہ سیاحتی جہازوں اور کشتیوں کا استقبال بھی کریں گی۔ نہر سے ملحقہ ساحلوں پر فائیو اسٹار ہوٹل بھی قائم کیے جائیں گے۔

علاوہ ازیں علاقے میں دیگر منصوبوں کی بھی پلاننگ کی گئی ہے جو تیل اور صنعت سے متعلق ہوں گے۔ اس طرح یہ مقام ایک اقتصادی اور صنعتی مرکز کے طور پر سامنے آئے گا اور اس کی اقتصادی اہمیت کسی طور بھی سیاحتی اہمیت سے کم نہ ہو گی۔

واضح رہے کہ نہرِ سلوی رہائشی دیہات اور زرعی علاقوں سے نہیں گزرے گی۔

اس نوعیت کا آخری تجربہ مصر نے دو برس قبل "نئی نہرِ سوئز" کھود کر کیا تھا۔ تقریبا 72 کلو میٹر طویل اس نہر پر چار ارب ڈالر لاگت آئی اور اسے 12 ماہ کی ریکارڈ مدت میں پورا کر لیا گیا تھا۔