.

التیفور کے عسکری اڈّے پر بم باری کا جواب دیں گے: خامنہ ای کے مشیر کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی رہبر اعلی علی خامنہ ای کے مشیرِ اعلی علی اکبر ولایتی کا کہنا ہے کہ پیر 9 اپریل کو شام کے صوبے حمص میں التیفور کے عسکری فضائی اڈے پر "اسرائیلی حملے" کا جواب دیا جائے گا۔ کارروائی میں 14 افراد ہلاک ہوئے جن میں ایرانی پاسداران انقلاب کے سات ارکان بھی شامل ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق ولایتی کا یہ موقف ان کے دمشق کے دورے کے دوران سامنے آیا ہے جس کا آغاز منگل 10 اپریل کی صبح سے ہوا۔

ولایتی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس کارروائی کو شامی فورسز اور "مدافعانِ حرم" کے خلاف صہیونی جرم قرار دیتے ہوئے باور کرایا کہ "یقینا اس جرم کو جواب دیا جائے گا"۔

ایران نے شام کے دو شہروں حمص اور تدمر کے بیچ واقع التیفور کے عسکری فضائی اڈے پر پیر کی صبح ہونے والے حملے میں ایرانی پسداران انقلاب کے 7 افسران کے مارے جانے کا اعتراف کیا تھا۔

ایرانی نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق اسرائیلی کارروائی میں مارے جانے والے "عسکری مشیروں" کی لاشیں فضائی راستے ایران پہنچا دی گئیں جہاں منگل کے روز ان کے جنازوں کی کارروائی پوری ہو گی۔

واضح رہے کہ ایران شام میں اپنی فورسز اور ملیشیاؤں کو "مدافعانِ حرم" کا نام دیتا ہے جو درحقیقت وہاں شیعوں کے مزارات کی جانب اشارہ ہے۔

خامنہ ای کے مشیر ولایتی نے شامی فورسز اور اس کے حلیفوں کو "مشرقی غوطہ میں کامیابی" پر مبارک باد پیش کی۔ ولایتی کے مطابق "ان فتوحات نے دشمنوں کو چراغ پا کر دیا ہے جن میں امریکا اور اسرائیل سرفہرست ہیں۔ اسی واسطے انہوں نے شامی حکومت پر دوما میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام لگا دیا"۔

مغربی دنیا اور دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ دوما میں ہونے والے حملے میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ اس وحشیانہ کارروائی میں خواتین اور بچوں سمیت کم از کم 100 شہری جاں بحق ہوئے تھے۔