.

ایران نے اس طرح الجزائر میں دہشت گردی کو سپورٹ کیا: سابق وزیراعظم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

الجزائر کے ایک سابق وزیراعظم احمد غزالی نے 1992ء میں ایران کے ساتھ تعلقات توڑ دینے کے فیصلے کے حوالے سے تفصیلات بیان کی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو میں غزالی نے بتایا کہ ان کے دور حکومت میں الجزائر کے صدر محمد بوضیاف (مرحوم) تھے۔ بوضیاف نے ہی غزالی کی حکومت کی تجویز پر ایران کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ کیا جس پر عمل درامد بوضیاف کے قتل کے بعد ہوا۔

غزالی کے مطابق "تعلقات توڑنے کا فیصلہ ہمارے اس مشاہدے کے بعد سامنے آیا کہ ایرانی نظام ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت کر رہا ہے اور دہشت گردی کو مادی اور معنوی طور پر سپورٹ کر رہا ہے"۔ انہوں نے بتایا کہ مذہب کے نام پر خطرناک ترین آمریت دراصل ملاؤں کی آمریت ہے۔ یہ لوگ خطے کے تمام ممالک پر کنٹرول کے لیے کوشاں ہیں۔ اس مقصد کے لیے پرتشدد کارروائیوں کے علاوہ عوام اور نظاموں کے عدم استحکام کو ذریعہ بنایا جاتا ہے۔ یہ لوگ اپنے منصوبوں پر خفیہ طور پر نہیں بلکہ اعلانیہ طور پر عمل کرتے ہیں۔

غزالی نے 1989ء سے 1991 کے درمیان دو سال کا عرصہ خارجہ امور کے وزیر کا منصب بھی سنبھالا تھا۔ اُس وقت الجزائر نے ایران پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ الجزائر میں "اسلامک سیلویشن فرنٹ" تنظیم کو مالی طور پر اور اسلحے کے ذریعے سپورٹ کر رہا ہے۔

یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات منقطع کرنے کا فیصلہ الجزائر کی جانب سے اُس وقت تہران کو ارسال کیے گئے درجنوں انتباہات کے بعد عمل میں آیا۔ سال 1992ء کے آغاز میں دونوں ملکوں سے ایک دوسرے کے سفیروں کو واپس بلا لیا گیا۔ یہ اقدام انتخابی عمل کی منسوخی پر تہران کی مذمت کے جواب میں سامنے آیا۔ ایران کے ساتھ تعلقات 1999ء میں صدر بوتفلیقہ کے کرسی صدارت پر پہنچنے کے بعد ہی معمول پر آئے۔

احمد غزالی نے اپنی گفتگو میں تہران پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ الجزائری معاشرے میں شیعیت اور بعض غیر مانوس قسم کے رواج پھیلانے کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہمارے علم میں یہ بات آئی کہ ایران اپنے نیٹ ورکس کے ذریعے الجزائر میں مُتعہ کی شادی کا طریقہ رواج دے رہا ہے اور اس واسطے اس کے نیٹ ورکس نے الجزائری نوجوانوں کو بھرتی کرنا شروع کر دیا ہے"۔

احمد غزالی کا شمار الجزائر کے اُن چند نمایاں ترین سیاست دانوں میں ہوتا ہے جو ایرانی اپوزیشن کی معاونت کرتے ہیں۔ غزالی موجودہ ایرانی حکام پر سب سے زیادہ تنقید کرنے شخصیات میں شامل ہیں۔

سابق وزیراعظم کے مطابق ایران اسلام کا دعوی کرتا ہے جب کہ اس نے جدید زمانے میں کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ مسلمانوں کو قتل کیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عرب اور اسلامی ممالک کے سامنے اس کے سوا کوئی حل نہیں کہ وہ اس سرطانی وجود کو علاحدہ کر دیں جو خود کو ولایت فقیہ کے نظام سے متعارف کراتا ہے۔

احمد غزالی نے گفتگو کے اختتام پر افسوس کے ساتھ استفسار کیا کہ عراق، شام اور یمن جیسے ممالک جو تہذیبوں کا مرکز تھے کس طرح اس نظام کا شکار ہو گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بعض عرب ممالک میں جنگوں اور تباہی کی صورت میں آج جو کچھ ہو رہا ہے اس کے پیچھے ایرانی نظام کا ہاتھ ہے... بالکل اسی طرح جیسے 80ء کی دہائی اختتام اور 90ء کی دہائی کے آغاز پر الجزائر میں ہوا۔