.

حوثی ملیشیا داعش کے نقشِ قدم پر، خواتین کی تصاویر اور پلاسٹک ڈمی ہٹانے کے درپے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعاء میں پیر کے روز باغی حوثی ملیشیا کے مسلح ارکان کے اقدام نے شام اور عراق میں داعش تنظیم کی اپنے زیرِ قبضہ علاقوں میں کارستانیوں کی یاد دِلا دی۔ حوثیوں نے اپنی مہم کے دوران صنعاء کے بازاروں میں اُن اشتہارات اور بل بورڈز کی تصاویر کو مسخ کر دیا جن میں خواتین ظاہر ہو رہی تھیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے متعدد دکانوں میں خواتین کے کپڑوں کی نمائش کے لیے استعمال ہونے والی پلاسٹک ڈمیز کے چہروں کو بھی ڈھانپ دیا۔ حوثی باغیوں کا موقف تھا کہ یہ چیزیں "فتح و نصرت میں تاخیر کا سبب ہیں "!.

عینی شاہدین کے مطابق مسلح حوثیوں نے صنعاء کے وسطی علاقے میں بیوٹی پارلروں اور دلہنوں کے ملبوسات کی دکانوں پر نصب اشتہارات کے بورڈز سے خواتین کے چہروں کی تصاویر کو مٹا دیا۔

علاوہ ازیں حوثیوں نے ان دکانوں کے مالکان میں ایک نوٹفکیشن تقسیم کیا جس میں اشتہاری بورڈز اور دکانوں کے دروازوں پر نظر آنے والی دلہنوں کی تصاویر کو مٹا دینے کی ہدایات دیں۔

یمنی باغیوں نے مالکان کو اس امر پر بھی مجبور کر دیا کہ وہ زنانہ ملبوسات کی نمائش کے لیے استعمال ہونے والی پلاسٹک کی ڈمیز کے چہروں کو ڈھانپ دیں۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا کے عناصر نے اپنے اقدام کا جواز بتاتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کی عریاں اور غیر اخلاقی تصاویر درحقیقت نصرتِ الہی میں تاخیر کا سبب ہیں۔ باغیوں کا اشارہ اُس جنگ کی جانب تھا جو انہوں نے ستمبر 2014ء سے ملک میں آئینی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعد عوام پر مسلط کر رکھی ہے۔

مبصرین کے مطابق حوثی ملیشیا کا یہ فیصلہ باور کراتا ہے کہ یمنی باغی القاعدہ اور داعش جیسی دہشت گرد تنظیموں کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں۔ یہ لوگ فن اور فن کاروں کے خلاف بر سر جنگ ہیں اور یمنی دارالحکومت میں عام دکانوں کو بند کرانے کے درپے ہیں کیوں کہ ان کے نزدیک یہ مرد و زن کے اختلاط کا ذریعہ ہیں۔