.

حوثی ملیشیا مقتول علی صالح کے خلاف "سنگین غداری" کے الزام میں مقدمہ چلائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں عدلیہ اور انسانی حقوق سے تعلق رکھنے والے ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حوثی ملیشیا نے مقتول سابق صدر علی عبداللہ صالح اور ان کے کئی عزیز و اقارب کا کیس صنعاء میں باغیوں کے ہی زیرِ قبضہ اسٹیٹ سکیورٹی پراسیکیوشن کو بھیجا ہے جہاں ان افراد سے " سنگین غداری" کے الزام کے تحت تحقیقات کی جائیں گی۔

ذرائع کے مطابق سابق صدر علی عبداللہ صالح، ان کے بیٹوں، بھتیجوں اور متعدد دیگر عزیزوں کے علاوہ علی صالح کی جنرل پیپلز کانگریس پارٹی کے رہ نما علی الشاطر اور اس کے مالیاتی امور کے سربراہ فؤاد الكميم کا کیس شامل ہے۔

حوثی ملیشیا کی طرف سے یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مغربی ساحل کے محاذ پر علی صالح کے بھتیجے بریگیڈیئر جنرل طارق صالح کے زیر قیادت فورس حرکت میں آ رہی ہے۔ حوثیوں کی پوری کوشش ہے کہ طارق صالح لڑائی میں مداخلت نہ کریں کیوں کہ وہ حوثیوں کی کمزوریوں سے اچھی طرح واقف ہیں۔

حوثی ملیشیا نے دسمبر 2017ء میں صنعاء میں سابق صدر علی عبداللہ صالح کو قتل کر دیا تھا۔ اس سے قبل سابق صدر نے باغیوں کے خلاف عوامی مزاحمتی تحریک کی اپیل کی تھی۔ باغیوں نے ابھی تک علی صالح کی لاش کو نامعلوم جگہ پر رکھا ہوا ہے۔ حوثیوں نے سابق صدر کے بیٹوں صلاح، مدين اور عفاش کے علاوہ ان کے کئی عزیزوں کو اغوا کر لیا ہے جب کہ جنرل پیپلز کانگریس پارٹی کے متعدد رہ نماؤں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق حوثی باغی علی صالح کے بڑے بیٹے بریگڈیئر جنرل احمد علی اور بھتیجے طارق صالح پر دباؤ ڈالنے کے لیے بلیک میلنگ کے تمام حربے بروئے کار لا رہے ہیں۔

اس سے قبل حوثی ملیشیا نے صنعاء اور دیگر شہروں میں مقتول صدر صالح اور ان کے عزیز و اقارب کے بینک اثاثوں، جائیدادوں اور کمپنیوں کو قبضے میں لے لیا تھا۔صالح کے بیٹوں اور رشتے داروں سمیت 49 افراد کی منقولہ اور غیر منقولہ املاک ضبط کرنے کا حکم بھی جاری کیا تھا۔