.

یمن : شاہ سلمان مرکز کے تحت جنگ سے متاثرہ بچوں کی نئی بحال کھیپ تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے صوبے مارب کے سکریٹری ڈاکٹر عبدربہ مفتاح نے شاہ سلمان امدادی مرکز کے اُس منصوبے کو سراہا ہے جس کے تحت حوثی ملیشیا کے ہاتھوں لڑائی کے محاذوں پر جھونکے جانے والے یمنی بچوں کو بحال کیا جا رہا ہے۔

ڈاکٹر مفتاح نے باغیوں کے زیر قبضہ صوبوں میں والدین اور سرپرستوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے بچوں کی حفاظت کریں اور انہیں حوثی ملیشیا کے ہاتھوں تر نوالہ بننے کے لیے نہ چھوڑیں مبادا پھر لڑائی کے محاذوں سے ان کی واپسی مردہ یا زخمی حالت میں ہو۔

ڈاکٹر مفتاح نے یہ بات یمن میں جنگ کے دوران بھرتی کیے جانے والے اور اس سے متاثرہ بچوں کی بحالی کے لیے جاری پروگرام کے دوسرے کورس میں تیسرے اور چوتھے مرحلے کے اختتام پر منعقد تقریب سے خطاب میں کہی۔ اس پروگرام کو سعودی عرب میں شاہ سلمان امدادی مرکز کی جانب سے سپورٹ کیا جا رہا ہے۔

مارب صوبے کے وکیل نے اپنے خطاب میں بتایا کہ بحالی کورس کی تکمیل کے بعد آج جن بچوں کی کھیپ فارغ التحصیل ہوئی ہے یہ اسکولوں کے اُن بچوں کا حصّہ ہیں جن کو باغی حوثی ملیشیا نے تعلیمی اداروں سے اٹھا کر جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا تھا اور پھر وہ سرکاری فوج کی قید میں آ گئے۔

تقریب کے اختتام پر کورس میں شریک بچوں نے تمثیلی طور پر اُن حالات کی ایک تصویر پیش کی جن کا سامنا اُنہیں لڑائی کے محاذوں پر کرنا پڑا۔ جنگ اور بھرتی سے متاثرہ بچوں نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ اس بحالی کورس نے انہیں یہ موقع فراہم کیا ہے کہ وہ گولہ بارود اور راکٹوں کے بجائے قلم ، کتاب اور کاپی کو سینے سے لگا کر اپنا بچپن گزاریں اور ایک بار پھر اپنے خوابوں کے ساتھ اسکولوں کو واپس لوٹ سکیں۔

منصوبے کی انتظامیہ نے بحالی پروگرام کے دوران انجام دی جانے والی سرگرمیوں کی تصاویر کی ایک نمائش کا بھی انتظام کیا۔ اس دوران بچوں کی جانب سے بنائے گئے فن پارے بھی سامنے آئے جن میں انہوں نے بحالی پروگرام کے دوران اور اس سے پہلے کی اپنی نفسیاتی کیفیات کے اظہار کی کوشش کی۔

واضح رہے کہ حالیہ دوسرے کورس میں 27 بچوں کو بحالی کے لیے شامل کیا گیا۔ تیسرے اور چوتھے مرحلے میں مجموعی طور پر یمن کے مختلف صوبوں سے 80 بچوں کو شامل کیا جائے گا۔ ایک ماہ دورانیے کے بحالی کورس میں ثقافت ، کھیل اور تفریح سے متعلق مختلف سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں۔ ان کے علاوہ بچوں کے لیے نفسیاتی اور سماجی نوعیت کی نشستوں کو بھی انعقاد کیا جاتا ہے جن میں تجربہ کار ماہرین بھی شریک ہوتے ہیں۔

پروگرام کے تحت مجموعی طور پر 2 ہزار یمنی بچوں کی بحالی کا ہدف رکھا گیا ہے۔