.

’کتاب میں بچوں کو خون خرابے پر اکسانے کی مذموم کوشش‘

متنازع کتاب کے انکشاف کے بعد تیونس کتاب میلےمیں شام سیکشن بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں منعقدہ عالمی کتاب میلے کے دوران انکشاف کیا گیا کہ شام کے سیکشن میں ایک کتاب میں بچوں کو لڑائی، تشدد اور خون خرابے پر اکسایا گیا ہے۔ اس کتاب کے سامنے آنے کے بعد حکام فوری حرکت میں آگئے اور انہوں نے نہ صرف وہ متنازع کتاب بلکہ میلے میں شامل شام کے سیکشن ہی کو بند کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بک فئر کے دوران زائرین نے ایک کتاب کی نشاندہی کی۔ یہ کتاب شام کے سیکشن میں بچوں کی رکھی گئی تھی۔ کتاب میں خاکوں کی شکل میں بچوں کو خون خرابے اور دہشت گردی پر اکسانے کی کوشش کی گئی۔ مختلف خاکوں اور عبارتوں کی مدد سے بچوں کو لڑائی،تشدد، خون بہانے اور دیگر خطرناک حربے استعمال کرنے پر اکسایا گیا۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کا لٹریچر ایک خاص ذہنیت کی سازش ہے جو بچوں کے ذہنوں میں تشدد کی زہرگھولنے اور قتل وخون خرابے کی ثقافت کو پروان چڑھانے کے لیے کوشاں ہے۔

کتاب میلے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ متنازع کتاب کی شمولیت میلے کی شرائط اور قواعد وضوابط کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اس خلاف ورزی پر شام کی جانب سے رکھی گئی کتب اٹھا دی گئی ہیں اورپورا سیکشن بند کردیا گیا ہے۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ بچوں کو قتل، تشدد اور نفرت پراکسانا عرب ثقافت اور ادب کا ہرگز حصہ نہیں اور ہم ایسا لٹریچر کسی صورت میں پھیلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق متنازع کتاب کا عنوان ’الھم ارزقنی شہادۃ‘[اے اللہ مجھے شہادت کی نعمت سے بہرہ مند فرما‘۔ بتایا گیا ہے اور اس کے مصنف محمد عمر الحاجی ہیں۔ انہوں نے کتاب میں دس سال سے بھی کم عمر کے بچوں کے خاکے بنائے ہیں۔ اس میں ایک بچہ جو شہادت کا طلب گار کے عقب میں داعش کا پرچم بنایا گیا۔ اسے اسلحہ اٹھانے اور خون بہانے کی ترغیب دی گئی۔ میلے میں شامل کی گئی اس کتاب کی قیمت دو ڈالر کے مساوی بتائی جاتی ہے۔

متنازع کتاب کے سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بھی اس حوالے سے گرما گرم بحث جاری ہے۔ سماجی کارکنوں نے بھی متنازع کتاب پھیلانے اور بچوں کو قتل اور تشدد پر اکسانے کی شدید مذمت کی ہے۔