ایرانی نیوز ایجنسی بھی سعودی ولی عہد کی خوبیوں کی معترف

شہزادہ محمد بہادر اورذہین لیڈر ہیں: ایسنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

ایران میں عموما ذرائع ابلاغ کی توپوں کا رخ سعودی قیادت اور مملکت کے خلاف ہوتا ہے مگر ایرانی طلباء کی مقرب ایک نیوز ایجنسی نے خلاف معمول سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی تعریف کی ہے۔ خبر رساں ادارے ’ایسنا‘ نے ایران کی فری اسلامی یونیورسٹی کے پروفیسر اور تجزیہ نگار مہدی زاکریان کا ایک انٹرویو شائع کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ سعودی ولی عہد ایک نڈر اور ذہین لیڈر ہیں۔ وہ نہ صرف سعودی عرب بلکہ خطے اور پوری دنیا کے مفاد کے لیے کام کر رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مسٹر زاکریان کے انداز بیان سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ ایران میں سچ بولنے والے اور سعودی عرب کی حمایت کرنے والوں کی بھی کوئی کمی نہیں۔ انہوں نے کہا بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ امریکا سعودی عرب کو پال رہا ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ سعودی عرب ہے جو پوری دنیا کو فیڈ کر رہا ہے اور مغرب سے مراعات کے حصول کے لیے کوشاں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں مہدی زاکریان نے کہا کہ جب سے محمد بن سلمان نے سعودی عرب میں ولی عہد کا منصب ہاتھ میں لیا ہے انہوں نے سعودی عرب کے خارجہ تعلقات کو ایک نئی جہت دی ہے۔ وہ مغرب سے ان تعلقات کے بدلے میں فواید حاصل کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے مغرب کو بھی بعض مراعات دی ہیں۔ ان میں بعض نمائشی ہیں مگر وہ مراعات سعودی عرب کے لیے ضرر رساں نہیں اور نہ ہی ان سے سعودی شاہی خاندان کو کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ سعودی عرب کی طرف سے مغرب کو دی گئی مراعات وہاں سے لی گئی مراعات سے بہت معمولی ہیں۔

ایرانی تجزیہ نگار مھدی زاکریان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں اصلاحات کے عمل نے ولی عہد محمد بن سلمان کے اقتدار کو مضبوط کیا ہے۔ ان اصلاحات کے نتیجے میں مغربی دنیا سے بھی انہیں سپورٹ مل رہی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ سعودی عرب میں کیے گئے اقدامات سے وہ کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہیں مگر افسوس یہ ہے کہ ہم اس فن سے آگاہ نہیں ہیں۔ ان کا اشارہ ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پائے جوہری معاہدے کی طرف تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران جوہری سمجھوتے سے فایدہ اٹھانے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ ماہرین یہ کہتے تھے کہ تہران جوہری معاہدے کے بعد دنیا سے تعلقات کو وسعت دے گا۔ عالمی اور علاقائی سطح پر ایران کے لیے مزید راستے کھلیں گے مگر ہم اس سمجھوتے کے فواید نہیں سمیٹ سکے۔ ایران غیرضروری مشاغل میں الجھ کر رہ گیا۔

ایک سوال کے جواب میں مہدی زاکریان نے کہا ک بعض میدانوں میں ایران نے اہم اہداف حاصل کیے ہیں مگر ہمیں دوسرے اتحادیوں کے ساتھ مل کر جو مراعات حاصل کرنا تھیں وہ نہیں کر سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان نے اصلاحات کے ذریعے طاقت حاصل کی اور خود کو اندرون اور بیرون ملک مضبوط کیا ہے۔ وہ مزید اپنی سیاسی حمایت میں اضافہ کریں گے۔ وہ سعودی عرب کے مفاد میں کام کرنے والے ممالک کے ساتھ مل کر آگے بڑھ رہے ہیں۔

ایرانی ذرائع ابلاغ میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ سعودی عرب مسئلہ فلسطین کے منصفانہ حل کی راہ میں رکاوٹ ہے مگر ایرانی تجزیہ نگار نے اس تاثر کو بھی رد کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی وجہ سے قضیہ فلسطین کو کسیی قسم کا نقصان نہیں پہنچے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب قضیہ فلسطین سے کبھی دست بردار نہیں ہو گا۔ سعودی عرب اوراسرائیل کے درمیان تعلقات قائم نہیں ہوں گے اور نہ الریاض اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لیے اقدامات کرے گا۔ سعودی عرب خود کو عالم اسلام میں ام القریٰ کا درجہ دیتا ہے۔ اس کے علاوہ اسلامی تعاون تنظیم کا میزبان ہے جہاں او آئی سی کا صدر دفتر قائم ہے۔ اس لیے سعودی عرب قضیہ فلسطین کو ختم کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ جہاں تک سعودی ولی عہد کے فلسطین سے متعلق بعض بیانات ہیں تو وہ مغرب سے بعض مراعات کے حصول کے تناظر میں ہیں۔

محمد مھدی زاکریان کا کہنا ہے کہ سیاست کے میدان میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے غیرمعمولی ذہانت اور بہادری کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ سعودی عرب میں اصلاحات کے ذریعے مغرب سے اپنی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہیں مغرب کی طرف سے مزید مراعات بھی مل سکتی ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ سعودی عرب کو دودھ پلا رہا ہے حالانکہ ایسا نہیں۔ میں کہتا ہوں کہ یہ سعودی عرب ہے جو امریکا اور مغرب کو دودھ پلا رہا ہے۔ ولی عہد نے مغرب سے وسیع پیمانے پر سعودی عرب میں سرمایہ کاری کے معاہدے کیے ہیں۔ وہ سعودی عرب کو خطے کا ایک حقیقی اقتصادی حریف بنانا چاہتےہیں۔ جب کہ ان کے ملک نےجوہری معاہدے سے فواید حاصل نہیں کیے۔

انہوں نے اس تاثر کی بھی نفی کہ سعودی عرب اپنے روپے پیسے اور پٹرول سے مغرب کو لبھا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پٹرول اور پیسہ ہی سب کچھ نہیں۔ سعودی عرب عالمی سطح پر اپنے تعلقات کی توسیع کے لیے دیگر وسائل بھی اختیار کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں