بھارت کے مغربی ساحل پر سعودی ارامکو کے ضخیم منصوبے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

تیل پیدا کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی سعودی کمپنی ارامکو نے بھارت کے ساتھ ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ اس کے تحت بھارت کے مغربی ساحل پر پیٹروکیمیکل مصنوعات کی ایک فیکٹری اور سالانہ 6 کروڑ ٹن تیل صاف کرنے کی گنجائش رکھنے والی ایک آئل ریفائنری قائم کی جائے گی۔

مفاہمتی یادداشت پر سعودی عرب کی ارامکو کمپنی اور بھارت کےRatnagiri گروپ آف کمپنیز نے دستخط کیے۔

ارامکو کے چیف ایگزیکٹو امین الناصر نے امید ظاہر کی ہے کہ مغربی ساحل پر آئل ریفائنری 2025ء سے قبل تیار ہو جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ "بھارت معیشت کی اعلی شرح نمو رکھنے والا ملک ہے جہاں کی منڈی میں دنیا کی بڑی کمپنیاں کام کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔ خام مال کے حوالے سے سعودی ارامکو کا بھارتی منڈی کے ساتھ امتیازی تعلق ہے۔ سعودی ارامکو اس نئی تزویراتی سرمایہ کاری پر فخر محسوس کر رہی ہے۔ یہ منصوبہ دونوں ملکوں کے درمیان تیزی سے بڑھتے تعلقات کی مضبوطی میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ گزشتہ برس 2017ء میں نئی دہلی میں ارامکو ایشیا کمپنی کے دفتر کے افتتاح سے اس خطّے میں سعودی ارامکو کے آپریشنز کو توسیع حاصل ہو گی جہاں بڑے پیمانے پر اقتصادی ترقی دیکھی جا رہی ہے"۔

ادھر توانائی کے سعودی وزیر خالد الفالح نے باور کرایا ہے کہ ارامکو بھارت میں سرمایہ کاری کے دیگر مواقع زیر بحث لانے کا سلسلہ نہیں روکے گی۔ انہوں نے بتایا کہ مغربی ساحل پر ریفائنری میں سرمایہ کاری سے بھارت کے لیے تیل کی سپلائی میں اضافہ ہو گا اور اس ریفائنری میں 50% حصّہ ارامکو کا ہو گا۔ الفالح کے مطابق "سعودی عرب بھارت کے مغربی ساحل پر اس ریفائنری کے لیے کم از کم 50% خام تیل فراہم کرے گا۔ اس کمپلیکس کی مجموعی پیداوار میں 30% حصّہ پیٹروکیمیکل مصنوعات کا ہوگا۔

آئل ریفائنری، کِرشنگ یونٹس اور پیٹروکیمیکل مواد کی Treatment کے ساز و سامان کے علاوہ منصوبے میں ریفائنری کے ساتھ مربوط دیگر سہولیات بھی شامل ہوں گی۔ ان میں لوجسٹک سہولیات، خام تیل اور تیل کی مصنوعات کی تقسیم کے لیے اسٹیشن اور پانی کی فراہمی کا منصوبہ شامل ہے۔

منصوبے کی تکمیل کے بعد یہ دنیا میں ریفائننگ اور پیٹروکیمیکلز کے سب سے بڑے منصوبوں میں شمار ہو گا۔ منصوبے کی متوقع لاگت 44 ارب ڈالر کے قریب ہے۔

دوسری جانب سعودی وزیر توانائی خالد الفالح کا کہنا ہے کہ اوپیک تنظیم طلب اور رسد کے درمیان مضبوط توازن پیدا کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ تاہم انہوں نے انکشاف کیا کہ تیل کے شعبے میں سرمایہ کاری اُس کی طلب کی سطح کے ساتھ برقرار نہیں رہ پا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں