عہد تمیمی کی ہراسیت سے متعلق ویڈیو کیوں نشرکی گئی؟

بیٹی کی بہادر اور صبر دنیا کو دکھانا چاہتا ہوں: باسم تمیمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

صہیونی ریاست کے خلاف مزاحمت کی علامت بن کر سامنے آنے والی فلسطینی بچی عہد تمیمی کے والد نے بیٹی سے صہیونی عقوبت خانے میں ہونے والی تفتیش اور اس کی ہراسیت کی ویڈیو جاری کرنے کی وضاحت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عہد التمیمی کی ہراسیت سے متعلق فوٹیج جاری کرنے کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ ان کی بیٹی کس قدر بہادر اور بے خوف ہے۔ وہ صہیونی تفتیش کاروں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوری قوت سے اپنی مزاحمت کا اظہار کرتی ہے۔ تفتیش کار جب اسے مرعوب کرنے میں ناکام رہتے ہیں تو غیر اخلاقی طرز عمل پر اتر آتے ہیں۔ اس کی آنکھوں، بالوں اور چہرے کی رنگت پر اس سے چھیڑنے کی مذموم کوشش کرتے ہیں۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے عہد تمیمی کے والد باسم تمیمی نے کہا کہ صہیونی تفتیش کار عہد سے بات کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ مسلسل خاموش رہتی ہے۔ اس نے پہلے ہونے والی تفتیشی مراحل میں بھی بہت کم کسی تفتیش کار سے بات چیت کی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میرا مقصد فوٹیج نشر کرنے سے عہد کی جنسی ہراسیت کو ظاہر کرنا ہرگز نہیں۔ یہ ہم مسلمانوں اور عربوں کی روایات میں شامل نہیں مگر میں دنیا اور فلسطینی قوم کو یہ دکھانا چاہتا تھا کہ عہد تمیمی کتنی بہادر اور طاقت ور بیٹی ہے۔ صہیونی کس طرح اسے لبھانے اور بات کرانے کے لیے مختلف حربے استعمال کرتے ہیں مگر وہ تمام حربوں کا جواب اپنی خاموشی سے دیتی ہے۔ صہیونی جلاد اپنے تمام حربوں کے استعمال کےباوجود عہد کو بات کرانے کامیاب نہیں ہوئے۔

عہد کے والد باسم تمیمی نے کہا کہ ان کی بیٹی کو مسلسل 10 روز تک زیر تفتیش رکھا گیا مگر اس نے اس پورے عرصے میں خاموشی اختیار کیے رکھی۔ یہاں تک کہ اس نے روایتی سوال کہ آپ کا کیا نام کا جواب تک نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ عہد تمیمی فلسطینی قوم کی مزاحمت کی علامت ہے۔ یہ کوئی تہمت نہیں اور اس پر اس کے ٹرائل پر ہمیں کوئی پریشانی نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فوٹیج میں صہیونی تفتیش کاروں کے غیراخلاقی طرز عمل سے اسرائیلی ریاست کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔ صہیونی حکام اپنے جرائم کے ذریعے فلسطینی قوم کے عزم کو شکست نہیں دے سکتے۔ عہد تمیمی نے ثابت کیا ہے کہ وہ ایک بہادر اور مجاھد ہے۔ صہیونی تفتیش کار اسے ذرا بھی خوف زدہ نہیں کر سکے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سب عہد تمیمی کی طرح صہیونیوں کے سامنے بے خوف ہو جائیں۔

واضح رہے کہ عہد تمیمی اور ان کی 20 سالہ کزن نور تمیمی کو 15 دسمبر کو مغربی کنارے میں واقع گاؤں نبی صالح میں دو اسرائیلی فوجیوں کو تھپڑ اور ٹھڈے مارنے کے الزام میں 19 دسمبر کو گرفتار کیا گیا تھا ۔ان کے مکان کے احاطے میں دو اسرائیلی فوجی آ گھسے تھے اور ان دونوں نے انھیں مکان سے نکالنے کی کوشش کی تھی۔

اس واقعے کی ویڈیو انٹر نیٹ پر وائرل ہو گئی تھی جس پر انھیں اسرائیلی فوج کی شان میں گستاخی کے الزام میں گرفتار کرکے مغربی کنارے میں واقع گاؤں بیتونیہ میں قائم اسرائیل کے زیر انتظام عفر جیل میں بند کر دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں