.

ایرانی سپریم لیڈر کے مشیرِ اعلیٰ کا شامی فوجی افسر کے ساتھ دورۂ مشرقی الغوطہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر اعلیٰ برائے خارجہ امور نے شام کے جنگ زدہ علاقے مشرقی الغوطہ کا دورہ کیا ہے ۔ان کی اس دورے کی ایک ویڈیو انٹر نیٹ کے ذریعے منظرعام پر آئی ہے۔اس میں وہ بشارلاسد کی فوج کے ایک افسر سے جنگ کی صورت حال کے بارے میں تبادلہ خیال کررہے ہیں ۔

ایرانی میڈیا ذرائع کی رپورٹ کے مطابق علی اکبر ولایتی نے مشرقی الغوطہ میں ایک فوجی جگہ کا معائنہ کیا ہے اور وہاں جاری جنگی کارروائی کے بارے میں فوجی افسروں سے بات چیت کی ہے۔

ایران کی نیو ز ایجنسی خبر آن لائن نے یہ ویڈیو اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ کی ہے۔اس میں مشیر اعلیٰ فوجی علاقے میں نظر آرہے ہیں ۔تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق شامی وزیر خارجہ ولید المعلم نے بدھ کو علی اکبر ولایتی کا خیر مقدم کیا تھا اور ان سے ملک میں ہونے والی تازہ پیش رفت کے بارے میں گفتگو کی تھی ۔مسٹر ولایتی نے اس بات چیت میں اسد رجیم کے لیے ایران کی حمایت کا اعادہ کیا تھا۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کے مطابق ولید المعلم اور علی اکبر ولایتی نے دونوں ملکوں کے درمیان اسرائیل ، امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جارحانہ دھمکیوں سے نمٹنے کے لیے دوطرفہ تعاون اور مشاورت بڑھانے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

ایرانی مشیر اعلیٰ نے یہ دورہ ایسے وقت میں کیا ہے جب امریکا اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ شام میں اسد رجیم اور پاسداران ا نقلاب کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے پر غور کررہا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باغیوں کے کنٹرول والے شہر دوما پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملے کے ردعمل میں اسمارٹ میزائل داغنے کی دھمکی دی ہے اور روس سے کہا ہے کہ وہ اس کے لیے تیار ہو جائے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرس کا کہنا ہے کہ ’’اس وقت تمام آپشنز زیر غور ہیں اور ابھی اس ضمن میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے‘‘۔