.

دہشت گردی کے خلاف جنگ اولین ترجیح ہے:سعودی عرب، فرانس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اور فرانس کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں ملک دہشت گردی کی لعنت کے خلاف جاری جنگ میں ایک دوسرے کے ساتھ بھرپور تعاون جاری رکھیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا دورہ فرانس تاریخی اور دونوں ملکوں کے درمیان طویل دوستی کا غماز ہے۔ ان کے دورہ فرانس کے لیے جشن کا بہترین موقع ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ فرانس سعودی عرب کے معاشی ترقی کے منصوبے ویژن 2030ء میں معاونت کے لیے سیاحتی اور ثقافتی شعبوں میں اپنی مہارتوں کو استعمال کرے گا۔ دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف جنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے مل کر کوششیں جاری رکھنے سے اتفاق کیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ فرانس اور سعودی عرب کی اولین ترجیح ہے۔ دونوں ممالک عالمی چیلنجز کا مل کر مقابلہ کریں گے۔

حوثیوں کی ایرانی مدد ناقابل قبول

سعودی عرب اور فرانس نے مشترکہ بیان میں ایران کی جانب سے یمن کے حوثی باغیوں کی مالی امداد کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے یمن میں ایرانی مداخلت کو مسترد کردیا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب اور فرانس بحر الاحمر کی ترقی اور تحفظ کے لیے مشترکہ اقدامات کریں گے۔ فرانس نے یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کا اعلان کیا اور کہا کہ پیرس یمن میں تنازع کے سیاسی حل کے لیے اقوام متحدہ کے امن مندوب کی مساعی کی حمایت جاری رکھےگا۔ بیان میں حوثی باغیوں کی طرف سے سعودی عرب پر بیلسٹک میزائل حملوں کی بھی شدید مذمت کی گئی۔

شام میں کیمیائی حملے پر رد عمل

سعودی عرب اور فرانس نے شام میں عام شہریوں پر کیمیائی حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کیمیائی حملہ کرنے میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی پر زور دیا گیا۔

بیان میں لبنان میں مختلف قوتوں کے درمیان محاذ آرائی ختم کرنے اور تحمل سے کام لینے پر زور دیا گیا۔ دونوں ملکوں نے لبنان کی وحدت اور خود مختاری کی حمایت کی۔ بیان میں شام کے تنازع کے حل کے لیے سیاسی سطح پر کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔