.

مغرب کی فوجی کارروائی سے خطہ مزید عدم استحکام سے دوچار ہوگا: بشارالاسد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شامی صدر بشارالاسد نے خبردار کیا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے مبیّنہ حملے کے ردعمل میں مغرب کی فوجی کارروائی کی دھمکیوں سے خطے میں مزید افراتفری پھیلے گی اور یہ مزید عدم استحکام سے دوچار ہوگا۔

انھوں نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’ ان آوازوں اور کسی ممکنہ اقدام سے خطے میں مزید عدم استحکام ہی پیدا ہوگا‘‘۔

انھوں نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مشیر برائے امور خارجہ علی اکبر ولایتی سے ملاقات کی ہے اور اس کے بعد یہ بیان شامی صدر کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر پوسٹ کیا گیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بعض مغربی لیڈروں کے حالیہ دھمکی آمیز بیانات کے بعد شامی صدر کا یہ پہلا ردعمل ہے۔صدر ٹرمپ نے بدھ کو ایک ٹویٹ میں روس کو خبردار کیا تھا کہ وہ تیار رہے ، امریکا شام کے شہر دوما میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کا جواب دینے کی تیاری کررہا ہے۔

انھوں نے لکھا تھا:’’ روس نے شام پر فائر کیے جانے والے کسی بھی قسم کے اور تمام میزائلوں کو مارگرانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔روس تیار ہوجائے کیونکہ وہ آئیں گے،وہ بالکل نئے اور اسمارٹ ہوں گے۔آپ کو گیس سے ہلاک کرنے والے جانور کا ساتھی نہیں ہونا چاہیے جو اپنے ہی لوگوں کو ہلاک کررہا ہے اور اس پر خوشی کا اظہار کررہا ہے‘‘۔