.

دوما سے ’جیش الاسلام‘ کے دوسرے قافلے کا انخلاء

جنگ زدہ علاقے سے انخلاء کا سلسلہ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے حکومت مخالف باغی جنگجو گروپ ’جیش الاسلام‘ کا دوسرا قافلہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی دوما سے نکل گیا۔ دوسری جانب دوما سے عام شہریوں کے انخلاء کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے’آبزرویٹری‘ کے مطابق مشرقی الغوطہ کے تمام علاقوں کو اسدی فوج کے حوالے کرنے کی تیاری کی غرض سے شہریوں اور جنگجوؤں کا انخلاء جاری ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے دوما میں مبینہ فضائی حملے میں سیکڑوں شہریوں کی ہلاکتوں کے بعد امریکا نے شام پر حملے کا عندیہ دیا ہے۔ یہ انخلاء ایک ایسے وقت میں جاری ہے جب دوسری جانب امریکا اور اس کے اتحادی شام پر حملے کی تیاری کر رہے ہیں۔

انسانی حقوق آبزر ویٹری کے مطابق جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب 85 بسوں کا ایک قافلہ 4000 جنگجوؤں اور شہریوں کو لے کر شمالی شام کے علاقے الباب روانہ ہو گیا۔

انسانی حقوق کے مندوب رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ مشرقی الغوطہ اور دوما میں مزید شہری اور جیش الاسلام کے جنگجو انخلاء کے لیے ایک جگہ جمع ہو رہے ہیں۔ انہیں وہاں سے نکالنے کے لیے بسوں کا انتظام کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ 18 فروری 2018ء سے مشرقی الغوطہ میں شامی اور روسی فوج کے مشترکہ آپریشن میں کم سے کم 1700 شہری جاں بحق، ہزاروں زخمی اور لاکھوں کی تعداد میں بے گھر ہو چکے ہیں۔