.

یہودی آباد کاروں نے فلسطین میں مسجد کو آگ لگا دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی فوج کی سرپرستی میں دسیوں یہودی شرپسندوں نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس میں ایک مسجد پر آتش گیر مادہ چھڑک کر اسے آگ لگا دی جس کے نتیجے میں مسجد جل کر خاکستر ہو گئی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ واقعہ نابلس کے جنوبی قصبے عقربا میں اس وقت پیش آیا جب صہیونی شرپسندوں نے جامع مسجد ’الشیخ سعادہ’ پر تیل اور آتش گیر مادہ چھڑکا اور اسے آگ لگا دی۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ مسجد کو شہید کرنے والے صہیونی مجرموں نے مسجد کی بیرونی دیواروں پر اشتعال انگیز نعرے بھی تحریر کیے۔

مقامی شہریوں نے بتایا کہ یہودی آباد کاروں نے رات کی تاریکی میں مسجد کو آگ لگائی۔ جب شہری نماز فجر کے لیے مسجد پہنچے تو مسجد جل کر خاکستر ہو چکی تھی۔

سماجی کارکن غسان دغلس نے بتایا کہ مسجد کے قریب لگے کیمروں میں مسجد پر آگ لگانے والے افراد کو دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے چہرے کپڑوں سے لپیٹ رکھے ہیں۔ وہ پہلے مسجد کی طرف آتش گیر مادہ لے کر بڑھتے ہیں اور اس کے بعد مسجد کو آگ لگا دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسجد کے اطراف میں المغیر، مشرقی اللبن اور بیتا جیسے علاقے ہیں۔

مسجد کے باہر فلسطینیوں، مسلمانوں اور عربوں کے خلاف اشتعال انگیز نعروں کی چاکنگ بھی کی گئی ہے۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ اشتعال انگیزی کارروائی ’تدفیع الثمن‘ نامی ایک یہودی شرپسند گروپ کی جانب سے کی گئی ہے۔

’تدفیع الثمن‘ گروپ نے سنہ 2011ء میں الجلیل شہر میں مسجد طوبیٰ الزنغریا اور سنہ 2015ء میں طبریا میں ایک چرچ کو آگ لگا دی تھی۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کو موصول ہونے والی رپورٹس کے مطابق سنہ 2009ء کے بعد اب تک غرب اردن میں یہودی شرپسندوں کی طرف سے 50 سے زاید مساجد اور چرچوں پر حملے کیے گئے۔