دمشق پر حملے کی نئی تصاویر سامنے آ گئیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شام کے دارلحکومت دمشق میں بشار الاسد حکومت کے متعدد اہداف پر امریکا، برطانیہ اور فرانس کے مشترکہ حملے سے متعلق نئی تصاویر سامنے آئی ہیں۔

تینوں ملکوں کی مشترکہ کارروائی میں دمشق میں شامی حکومت کے سائنٹفک ریسرچ سینٹر کی عمارت تباہ ہوئی ہے۔ حمص میں فوجی تنصیب کو نشانہ بنایا گیا جو ناکام بنا دیا گیا۔

روس کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کے حملوں میں شام میں روسی فضائی اور بحری اڈوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

ایک بیان میں وزارتِ دفاع کا کہنا تھا کہ ’امریکا اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے داغے گئے میزائلوں میں سے ایک بھی اس زون میں داخل نہیں ہوا جس کی حفاظت کی ذمہ داری روس نے اٹھائی ہوئی ہے۔

اس حملہ کا اعلان کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم یہ جوابی کارروائی اس وقت تک جاری رکھنے کے لیے تیار ہیں جب تک شامی حکومت ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال نہیں روکتی۔‘

انھوں شام کے صدر بشار الاسد کے بارے میں کہا کہ 'یہ کسی انسان کا کام نہیں ہے بلکہ اس کے برعکس یہ ایک عفریت کے جرائم ہیں۔'

ایک عینی شاہد نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ دمشق میں علی الصبح چھ زوردار دھماکے سنے گئے اور دھواں اٹھتا دکھائی دیا۔ ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ جنوبی برزہ کو امریکا اور اس کے اتحادیوں نے نشانہ بنایا ہے۔ بارزے میں سرکاری ایجنسی سائنٹفک سٹڈیز اینڈ ریسرچ سینٹر واقع ہے۔

مغربی انٹلیجنس ایجنسی نے دعوی کیا ہے کہ اس سینٹر میں کیمیائی ہتھیار کیے جاتے ہیں۔ اس کی دو دیگر شاخیں بھی ہیں۔ ایک دمر میں ہے اور دوسری حماہ میں۔

ادھر شام کے سرکاری ٹی وی نے خبر دی ہے کہ شام کے حامی اتحادی [ایران اور روس] امریکا، برطانیہ اور فرانس کے حملے روکنے کے لئے کوششیں کر رہے ہیں۔

قبرص میں واقع برطانوی اڈا جہاں سے شامی حکومتی تنصیبات پر میزائل داغے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں