شام پر امریکی حملہ: روس کی جانب سے یو این کا اجلاس بلانے کا امکان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی صدر ولادی میر پوتن نے روس کے حلیف ملک شام پر حملے کی ’سخت ترین طریقے سے‘ مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ روس اقوامِ متحدہ کا ہنگامی اجلاس بلائے گا۔

روسی سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق صدر پوتن نے اس حملے کو ’جارحیت‘ قرار دیا۔ انھوں نے کہا دوما پر ہونے والا کیمیائی حملہ ڈراما تھا اوسر یہ حملے کا بہانہ تھا۔

ترکی کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ صدر بشار الاسد کے خلاف حملے کا خیر مقدم کرتا ہے اور اسے مناسب کارروائی قرار دیا۔

بیان میں کہا گیا کہ دوما کے حملے کے پس منظر میں برطانیہ، امریکا اور فرانس کے حملے نے انسانی ضمیر کو آسودہ کیا ہے۔

انقرہ نے مزید کہا کہ گذشتہ ہفتے دوما میں ہونے والا مشتبہ کیمیائی حملہ انسانیت کے خلاف جرم تھا اور اسے بغیر سزا کے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔

شامی حکومت نے کہا ہے کہ یہ واقعہ من گھڑت ہے جبکہ اس کے حامی روس نے کہا ہے کہ یہ برطانیہ کے تعاون سے تیار کیا گيا ہے۔

ترکی شام میں حکومت کے خلاف برسرپیکار باغیوں کی حمایت کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے شمالی شام میں کرد فوجیوں کے خلاف آپریشن جاری رکھا ہوا ہے جبکہ مبینہ طور پر روس سے معاہدہ کر رکھا ہے وہ اس کی فضائی قوت کا شمالی شام میں استعمال کرے گا۔

نیٹو نے ایک چھوٹے سے بیان میں کہا ہے کہ نیٹو کے سربراہ شام پر حملوں کی حمایت کرتے ہیں۔

وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کا کہنا ہے کہ کینیڈا ’کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال‘ کی مذمت کرتا ہے اور امریکا، برطانیہ، اور فرانس کی حمایت کرتا ہے۔

کینیڈا کے سرکاری خبر رساں ادارے سی بی سی نیوز کے مطابق جسٹن ٹروڈو کا کہنا تھا کہ کینیڈا اپنے بین الاقوامی اتحادیوں کے ساتھ مل کر ذمہ داران کو انصاف کے کٹھرے تک لانے میں کوشاں رہے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں