شام پر امریکی حملے ایران اور حزب اللہ کے لیے اہم اشارہ ہیں : اسرائیلی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل کے ایک سینیر وزیر یو آف گیلانٹ نے کہا ہے کہ امریکا کی قیادت میں شام میں فضائی حملے ایران ، شام اور لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے لیے ایک اہم اشارہ ہیں ۔

مسٹر یوآف نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ہفتے کے روز لکھا ہے کہ ’’ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کرکے سرخ لکیر عبور کر لی گئی ہے۔ انسانیت زیادہ دیر تک اس کو برداشت نہیں کرسکتی ‘‘۔

امریکا ، برطانیہ اور فرانس نے جمعہ کی شب شام میں فضائی حملوں کا آغاز کیا ہے اور اس کی مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شامی رجیم کے گذشتہ ہفتے باغیوں کے زیر قبضہ شہر دوما پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملے کے ردعمل میں اس اہدافی کارروائی کا حکم دیا تھا۔ان کا کہنا ہے کہ جب تک اسد حکومت کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے کا سلسلہ ترک نہیں کردیتی ،اس وقت تک یہ حملے جاری رہیں گے۔

اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ کے رکن گیلانٹ نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ امریکی حملہ برائی کے محوروں ایران ، شام اور حزب اللہ کے لیے ایک اہم اشارہ ہے‘‘۔

اسرائیل کے ایک اور عہدہ دار نے کہا ہے کہ ان کے ملک کو شام میں حملے کے بارے میں پیشگی اطلاع کردی گئی تھی ۔جب اس سے پو چھا گیا کہ کتنی دیر پہلے متنبہ کیا گیا تھا تو ان کا کہنا تھاکہ ’’ میرے خیال میں 12 سے 24 گھنٹے پہلے مطلع کردیا گیا تھا‘‘۔

اس سے جب یہ پوچھا گیا کہ کیا اسرائیل نے شام میں اہداف کے انتخاب میں کوئی مدد دی ہے تو اس نے اپنی شناخت ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ یہ میرے علم میں نہیں ہے۔

واضح رہے کہ شام ، ایران اور روس نے گذشتہ سوموار کو اسرائیل پر وسطی صوبے حمص میں ایک فوجی اڈے پر حملے کا الزام عاید کیا تھا۔اس حملے میں سات ایرانی فوجیوں سمیت چودہ افراد ہلاک ہوگئے تھے لیکن اسرائیل نے اس حملے کی تصدیق نہیں کی تھی۔

اس حملے کے بعد روسی صدر ولادی میر پوتین نے گذشتہ بدھ کو اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے فون پر بات چیت کی تھی اور ان پر زوردیا تھا کہ وہ ایسا کچھ نہ کریں جس سے شام میں عدم استحکام پیدا ہوسکتا ہو ۔

یادرہے کہ اسرائیل نے شام میں گذشتہ سات سال سے جاری جنگ کے دوران میں مختلف علاقوں پر متعدد فضائی حملے کیے ہیں اور ان میں مبینہ طور پر شام میں حزب اللہ کے اسلحہ کے ڈپووں یا تنصیبات یا اس کے لیے بھیجے گئے اسلحے کو نشانہ بنایا ہے۔ان فضائی حملوں میں ایران کے فوجی افسر اور حزب اللہ کے بعض اعلیٰ عہدے دار مارے جاچکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں