.

الجزیرہ ٹی وی کا نمائندہ القاعدہ کے نظریات پھیلانے والا، بن لادن کے دستاویزات میں انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

نومبر 2017ء میں امریکی حکام کی جانب سے جاری ہونے والے ایبٹ آباد دستاویزات سے پاکستان میں الجزیرہ نیوز چینل کے نمائندے احمد زیدان اور القاعدہ تنظیم کی قیادت کے درمیان تعلق کی نوعیت کا انکشاف ہوا ہے۔ امریکا نے زیدان کو 2015ء میں مشتبہ دہشت گرد قرار دینے اور شدت پسند تنظیموں کا رکن شمار کرنے کے بعد زیر نگرانی افراد کی فہرست میں شامل کر لیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے مذکورہ دستاویزات کا جائزہ لیا تو یہ بات سامنے آئی کہ الجزیرہ ٹی وی کے نمائندے زیدان کا ٹیلی فون نمبر اور ای میل ایڈریس القاعدہ کے رہ نماؤں کے درمیان گردش میں رہتا تھا۔

القاعدہ کے ایک رہ نما مولوی عثمان کی جانب سے الجزیرہ کے نمائندے زیدان کو القاعدہ تنظیم کا حامی قرار دیا گیا۔ عثمان نے ایک مراسلے میں زیدان سے ملاقات کا ذکر بھی کیا ہے۔

مولوی عثمان نے اپریل 2008ء میں تحریر کردہ اپنے ایک خط میں الجزیرہ کے سابق نمائندے احمد زیدان کے ساتھ ہونے والی تفصیلی گفتگو کے بارے میں بیان کیا۔ اس دوران القاعدہ تنظیم کی ایک آڈیو ٹیپ نشر کرنے کے حوالے سے بات چیت ہوئی جس میں ایران کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس حوالے سے زیدان نے بتایا کہ الجزیرہ ٹی وی میں کام کرنے والوں کی ایک بڑی تعداد ایران کی حمایت کرتے ہیں اور شیعوں کے لیے کشادگی اور فراخی کا موقف رکھتے ہیں۔ لہذا پوری کیسٹ کو نشر کرنا ممکن نہیں ہے ... البتہ ٹیپ کے نشر ہونے کے بعد تبصرے میں القاعدہ کے موقف کی تائید کروائی جا سکتی ہے۔

منظر عام پر آنے والی دستاویزات میں القاعدہ کی قیادت اور پاکستان میں الجزیرہ کے سابق بیورو چیف احمد زیدان کے بیچ قریبی خصوصی تعلقات کا واضح طور پر انکشاف ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اسامہ بن لادن نے "الحاج عثمان" ، "الشيخ محمود" اور احمد زيدان سے قطر کے تعلیمی نصاب کی کتب کا مطالبہ کیا تا کہ ان کے ذریعے ایبٹ آباد کے کمپاؤنڈ میں موجود اپنے بچوں کی تدریس انجام دے۔

القاعدہ کے ایک رہ نما عطیہ اللہ اللیبی نے اپنے خط میں اسامہ بن لادن کو بتایا کہ گیارہ ستمبر کے حملوں کی دسویں برسی کے موقع پر الجزیرہ کا نمائندہ احمد زیدان ایک خصوصی دستاویزی پروگرام تیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ کے حوالے سے بات چیت چل رہی ہے۔ اس پروگرام میں القاعدہ کے ایک رہ نما کو دس سے پندرہ منٹ کی گفتگو کا دورانیہ دیا گیا۔

ایک دوسرے خط میں یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ پروگرام کے نشریاتی حقوق الجزیرہ چینل اور القاعدہ کے میڈیا ونگ ادارے "السحاب" کے پاس محفوظ ہوں گے۔ خط کے مطابق پروگرام کے بصری طور پر نشر کرنے کے حقوق الجزیرہ کے ملک میں ہوں گے جب کہ صوتی اور تحریری طور پر نشریاتی حقوق السحاب ادارے کے پاس ہوں گے۔

الجزیرہ پر القاعدہ کی تقریروں کی ترویج

اس طرح القاعدہ تنظیم اور احمد زیدان کے درمیان 11 ستمبر کے حملوں کے متعلق نظریہ "سازش" کے پروپیگنڈے کے حوالے سے سمجھوتہ ہو گیا۔ اس مقصد کے لیے الجزیرہ نے القاعدہ تنظیم کے ٹیپس پر مشتمل سلسلہ وار دستاویزی پروگرام ترتیب دیا۔

ادھر بن لادن کے ایک خط میں القاعدہ رہ نما عطیہ اللہ اللیبی کو گیارہ ستمبر کی دسویں برسی کے موقع پر خصوصی پروگرام کے حوالے سے ذمے داری سونپی گئی۔ ساتھ ہی یہ طے پایا گیا کہ پروگرام کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ پلان اور منظرنامے کی تفصیلات میں مداخلت نہ کی جائے۔ اس کے علاوہ مطالبہ کیا جائے کہ اسامہ کے خاندان کے کسی فرد کے ساتھ گفتگو کو پروگرام کا حصہ نہ بنایا جائے۔

یاد رہے کہ الجزیرہ کے نمائندے احمد موفق زیدان کا نام امریکی قومی سلامتی کونسل کی ایجنسی کی دستاویزات میں بھی آیا۔ ایجنسی نے شام کی شہریت کے حامل زیدان کو ایک شدت پسند تنظیم اور اسی طرح الاخوان المسلمین تنظیم کا رکن قرار دیا تھا۔