.

بدعنوانی کے خلاف جنگ نے سعودی مالیاتی نظام کوشفاف بنا دیا:موڈیز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی بزنس وفینانشیل سروسز کارپوریشن’موڈیز‘ نے سعودی عرب میں انسداد بدعنوانی کی کارروائی کو مملکت کی معیشت کے لیے مثبت اقدام قرار دیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں کرپشن کے خلاف حکومت کی جنگ نے ملک کے مالیاتی نظام کو شفاف بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ’موڈیز‘ نے سعودی عرب کے لیے کریڈیٹ درجہ بندی کو a1 قرار دیا اور کہا ہے کہ مستقبل میں سعودی عرب اپنی کریڈٹ ریٹنگ برقرار رکھے گا۔

موڈیز کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں سعودی عرب میں جاری معاشی اصلاحات اور ان کے اثرات ونتائج پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سنہ 2023ء کے بجٹ کو متوازن رکھنے کے منصوبوں کے ساتھ ممکن ہے کہ سعودی عرب اعلیٰ درجے کی کریڈٹ کی صف میں واپس چلا جائے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی معاشی درجہ بندی ان توقعات کے لیے امید افزاء ہے حکومت کا اصلاحاتی پروگرام تیل کی قیمتوں کومتوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

موڈیز ایجنسی کے مطابق سعودی عرب میں آنے والے چند برسوں کے دوران سماجی دباؤ میں کمی آئے گی۔ اصلاحات کا نظام سست رہے گا مگر اس پروگرام نے عمومی مالی نظام پر مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔

مالیاتی شفافیت کی توثیق

ادھرسعودی عرب کی وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں ’موڈیز‘ کارپوریشن کی رپورٹ کی توثیق کی ہے اور کہا ہے کہ موڈیز نے سعودی عرب کی کریڈٹ درجہ بندی میں مملکت کو A1 قرار دے کر مملکت کی معاشی ترقی کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔ موڈیز نے نہ صرف سعودی عرب کی معاشی ترقی کی رفتار کے حوالے سے مثبت اشارے دیے ہیں بلکہ سنہ 2018ء کے دوران معاشی استحکام برقرار رہنے کی بھی توقع ظاہر کی ہے۔

’موڈیز‘ کا کہنا ہے کہ سعودی عرب میں حکومت کی جانب سے کرپشن کی روک تھام کے لیے اٹھائے اقدامات سے ملک کے مالیاتی نظام میں مزید شفافیت آئی ہے۔

کمپنی نے جنوری 2018ء میں جاری کردہ مالیاتی پروگرام میں توازن میں تبدیلی، سنہ 2023ء کے میزانیے کو متوازن بنانے کے پروگرام کو حقیقت پر مبنی پروگرام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے پروگرامات سے مالیاتی تنوع اور شفافیت میں مزید بہتری آئے گی۔

مضبوط درجہ بندی

مالیاتی درجہ بندی کے لیے کام کرنے والی ’اسٹینڈرڈ اینڈ بورز‘ ایجنسی نے سعودی عرب کی معاشی کریڈٹ درجہ بندی کرتے ہوئے مملکت کو "a-/a-2 کا درجہ دیا ہے اور ساتھ ہی توقع ظاہر کی ہے کہ مستقبل میں سعودی عرب کا یہ درجہ برقراررہے گا۔ کمپنی نے توقع ظاہر کی ہے کہ سنہ 2018ء سے 2020ء تک کا عمومی اور خارجہ میزانیہ مضبوط رہے گا۔

کمپنی کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کی معیشت کے حوالے سے مثبت توقعات ہیں۔ رواں سال اقتصادی شرح نمو میں بہتری کا سفر جاری رہے گا۔ مملکت میں سرمایہ کاری کے حجم اور تیل کی پیداوارمیں بہ تدریج اضافے کی توقع ہے۔

خیال رہے کہ سعودہ عرب گذشتہ کچھ عرصے سے معاشی اصلاحات کے ایک تیز رفتار پروگرام پرعمل پیراہے۔ اس پرگرام کا ایک پہلو مملکت میں کرپشن کا خاتمہ ہے۔ انسداد بدعنوانی مہم کو عالمی مالیاتی ادارے مملکت کی معیشت کی بہتری کی علامت کے طورپر پیش کرتےہیں۔