.

شام میں ایرانی ٹھکانے ہمارے اہداف میں شامل نہیں تھے : وہائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وہائٹ ہاؤس کے سینئر عہدے داران نے بتایا ہے کہ شام میں جن اہداف پر 105 "کروز" میزائل داغے گئے ان کی فہرست میں ایرانی اور روسی ٹھکانوں کو شامل نہیں کیا گیا تھا۔ کارروائی میں شامی حکومت کے زیر انتظام کیمیائی ہتھیار تیار کرنے والی تنصیبات اور تحقیقی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کو خبردار کر چکے ہیں کہ اُس پر لازم ہے کہ وہ بشار حکومت کو سپورٹ کرنے کے بجائے اپنے ملک کی معیشت کو سہارا دے۔

وہائٹ ہاؤس سے ٹیلیفونک بریفنگ کے دوران امریکی عہدے دار نے بتایا کہ واشنگٹن کے نزدیک شام میں استحکام کے عمل میں روس کا ایک اہم کردار ہے اور حملے کے بعد اگلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ جنیوا مذاکرات ، آئین کی اصلاح، آزادانہ انتخابات کے انعقاد اور قرارداد 2254 کی بنیاد پر اقوام متحدہ کی کوششوں کی تائید کی جانب لوٹا جائے۔

ایک دوسرے عہدے دار نے بتایا کہ شام میں امریکی وجود کا مقصد "داعش" کی ہزیمت ہے اور حالیہ حملے سے شام کے شمال میں 2 ہزار کے قریب امریکی فوجیوں کی موجودگی متاثر نہیں ہو گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ حالیہ کارروائی میں اہداف محدود تھے جس کے دوران کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری اور ان کی ذخیرہ اندوزی کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا تا کہ شامی حکومت دوبارہ ان کے استعمال کے قابل نہ رہے۔

تاہم دوسری جانب جنرل میکنزی نے پینٹاگون سے ایک بریفنگ میں تسلیم کیا ہے کہ شامی حکومت نے ابھی تک کیمیائی ہتھیاروں کی باقیات کو محفوظ رکھا ہوا ہے لیکن اس ذخیرے کو نشانہ بنانے کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتیں واقع ہوتیں کیوں کہ یہ مراکز گنجان آباد علاقوں میں ہیں۔

بعض حلقوں کے نزدیک امریکا پر لازم ہے کہ اب ایک سیاسی میکینزم پر کام کرے تا کہ شام میں جاری جنگ اختتام کو پہنچ سکے جو آٹھویں برس میں داخل ہو چکی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شامی حکومت کو دھمکی دے چکے ہیں کہ اگر اس نے ایک مرتبہ پھر کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تو نئی عسکری کارروائیاں اس کی منتظر ہوں گی۔

ٹرمپ انتظامیہ نے شامی حکومت کے حامی ممالک ایران اور روس پر نئی پابندیاں عائد کیے جانے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا۔