.

شام میں ایران کے خلاف متحرّک رہیں گے: اسرائیل کی وارننگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے ایک بار پھر خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی اور سرحد کے لیے خطرے کے پیشِ نظر شام میں ایرانی وجود کی اجازت نہیں دے گا۔

اتوار کے روز اسرائیل کے دو وزیروں نے باور کرایا ہے کہ ان کا ملک شام میں ایران کے خلاف "متحرک" رہے گا۔ یہ بیان شام میں التیفور کے ہوائی اڈے پر بم باری کے ایک ہفتے بعد سامنے آیا ہے۔ مذکورہ کارروائی میں ہلاک ہونے والوں میں 7 ایرانی بھی شامل تھے۔

اسرائیل کی داخلہ سکیورٹی کے وزیر اور اسرائیل کی چھوٹی سکیورٹی کابینہ کے رکن گیلاد اردان نے اسرائیلی فوج کے ریڈیو کو دیے گئے بیان میں کہا کہ "ہم شام میں ایران کے عسکری وجود کے خلاف متحرک ہونے کا سلسلہ جاری رکھیں گے کویں کہ یہ اسرائیل کے امن کے لیے خطرہ ہے"۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیر تعلیم نیوتالی بینیٹ نے جو خود بھی سکیورٹی کابینہ کے ارکان میں شامل ہیں، کہا ہے کہ کہ اسرائیل "حرکت میں آنے کی مکمل آزادی رکھتا ہے"۔ انہوں نے کہا کہ "ہم ایران کو شام کے اندر اپنے قدم نہیں جمانے دیں گے۔ یہ ممکن نہیں کہ ہماری شمالی سرحد بشار الاسد کے لیے ایک کھلا صحن بن جائے"۔

دمشق ، ماسکو اور تہران نے گزشتہ پیر (9 اپریل) کو اسرائیل پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے شام کے صوبے حمص میں التیفور کے عسکری ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا۔ کارروائی میں 14 افراد ہلاک ہوئے جن میں 7 ایران بھی تھے۔ ادھر اسرائیل نے اپنے وزیر دفاع کی زبانی اس کارروائی میں ملوث ہونے کی تردید کر دی تھی۔ حملے کے بعد ایران نے دھمکی دی تھی کہ اس کارروائی کو جواب کے بغیر رائیگاں نہیں جانے دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ برسوں کے دوران شام میں کئی فضائی حملے کر چکا ہے جن کے بارے میں اسرائیل کا موقف رہا ہے کہ اس کا مقصد حزب اللہ کو بھیجے جانے والے جدید ترین اسلحے کی کھیپ کو نشانہ بنانا ہوتا ہے۔