.

مشرقی الغوطہ جنگجوؤں سے پاک ہوگیا : شامی فوج کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے جنگ زدہ علاقے مشرقی الغوطہ میں واقع شہر دوما سے باقی ماندہ تمام جنگجو اور ان کے خاندان ملک کے شمال کی جانب چلے گئے ہیں جس کے بعد شامی فوج نے اس تمام علاقے کو جنگجوؤں سے پاک قرار دے دیا ہے۔

شام کے سرکاری میڈیا نے ہفتے کے روز فوج کی اعلیٰ کمان کے بیان کے حوالے سے کہا ہے کہ ’’ دوما شہر سے تما م دہشت گرد چلے گئے ہیں ۔انھوں نے مشرقی الغوطہ میں اپنے آخری ٹھکانوں کو خالی کردیا ہے‘‘۔شامی حکومت اور اس کا میڈیا باغی جنگجوؤں کو بلا تمیز دہشت گرد قرارد یتا چلا آرہا ہے۔

اس شہر پر باغی گروپ جیش الاسلام کا کنٹرول تھا ،اس نے 7 اپریل کو دوما پر کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے ایک روز بعد گذشتہ اتوار کو شامی حکومت اور روسی فوج کے ساتھ انخلا کے ایک سمجھوتے سے اتفاق کیا تھا۔

دوما میں شہریوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں سے اس حملے کے ردعمل میں امریکا ،برطانیہ اور فرانس نے شام کے دارالحکومت دمشق اور وسطی شہر حمص کے نواح میں مختلف اہداف کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے اور شامی رجیم کی کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیبات کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

گذشتہ ایک ہفتے کے دوران میں جیش الاسلام سے تعلق رکھنے والے باغی جنگجو ،ان کے خاندان اور دوما میں شامی صدر بشارالاسد کی عمل داری میں نہ رہنے پر آمادہ شہری بسوں کے ذریعے ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع شمال مغربی صوبے ادلب کی جانب چلے گئے ہیں۔ادلب پر اس وقت مختلف باغی گروپوں کا کنٹرول ہے۔

واضح رہے کہ شامی فوج اور اس کے اتحادی روس نے مشرقی الغوطہ میں باغیوں کے خلاف بڑی زمینی اور فضائی کارروائی شروع کی تھی اور اس دوران میں اس علاقے میں واقع شہروں اور قصبوں پر تباہ کن بمباری کی ہے۔برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق کے مطابق شامی اور رو سی فوج کے حملوں میں ایک ہزار چھے سو سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں اور ہزاروں زخمی ہوگئے ہیں۔