حمد خاندان نے قطر کو عرب دنیا سے علاحدہ کر دیا: سلطان بن سحیم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

قطر کے سابق امیر کے بھتیجے اور سابق وزیر خارجہ سحیم آل ثانی کے بیٹے شیخ سلطان بن سحیم کا کہنا ہے کہ عرب سربراہ اجلاس میں قطر کی غیر حاضری کی تمام تر ذمّے داری حکمراں حمد خاندان پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قطر کی عنقریب عرب دنیا میں واپسی ہو گی۔

شیخ سلطان نے اپنی ٹوئیٹس میں کہا کہ "ہم اس علاحدگی اور تنہا رہ جانے پر رنجیدہ ہیں جس کا سامنا ہمیں حمد خاندان کی غیر ذمّے دارانہ پالیسیوں کے نتیجے میں کرنا پڑ رہا ہے۔ قطر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس الم ناک صورت حال پر پہنچنا کتنا افسوس ناک ہے"۔

شیخ سلطان کا مزید کہنا تھا کہ "روز بروز میرا وطن تنہا ہوتا جا رہا ہے اور ہمارے عوام کے سامنے ناکامی کے دروازے کھلتے جا رہے ہیں۔ عرب دنیا بیت المقدس سے متعلق سربراہ اجلاس میں سر جوڑ کر بیٹھی جب کہ حمد خاندان ہٹ دھرمی اور صفوں میں انتشار پھیلانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے"۔

اتوار کے روز سعودی عرب کے شہر ظہران میں ہونے والے سربراہ اجلاس کو "بیت المقدس اجلاس" کا نام دیا گیا۔ اجلاس میں عرب قیادت نے شرکت کی جب کہ قطر غیر حاضر رہا۔

یاد رہے کہ چار عرب ممالک سعودی عرب ، امارات ، بحرین اور مصر نے جون 2017ء سے قطر کا جامع سیاسی اور اقتصادی بائیکاٹ کر رکھا ہے۔ دوحہ نے مذکورہ ممالک کی جانب سے سامنے آنے والے مطالبات کو مسترد کر دیا جن میں قطر کو دہشت گردی کی سپورٹ اور پڑوسی ممالک کے معاملات میں مداخلت سے اجتناب برتنے کے لیے کہا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں