شام کی جنگ جاری رہے گی : برطانوی وزیر خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانوی وزیر خارجہ بورس جونسن کا کہنا ہے کہ شام کی جنگ اپنی خوف ناک صورت میں جاری رہے گی۔ انہوں نے یہ بات پیر کے روز یورپی یونین کے رکن ممالک کے وزراء خارجہ کے اجلاس میں شرکت کے لیے برسلز پہنچنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

جونسن کا مزید کہنا تھا کہ امریکا ، فرانس اور برطانیہ کی جانب سے شام پر حالیہ فضائی حملوں سے جنگ کی صورت حال تبدیل نہیں ہو گی مگر اس طریقے سے یہ ظاہر کر دیا گیا کہ کیمیائی حملوں کے حوالے سے دنیا کا صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔

جونسن اس سے قبل یہ باور کرا چکے ہیں کہ بشار الاسد کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے دباؤ کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ اخباری بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ "ہم یہ بات پورے یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ شامی صدر بشار الاسد نے ابھی تک اپنے پاس کیمیائی ہتھیار رکھے ہوئے ہیں"۔

دوسری جانب جرمنی کے وزیر خارجہ ہائیکو میس نے پیر کے روز برسلز میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شام کے تنازع کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے جس میں خطے کی تمام قوتیں شریک ہوں۔ ہائیکو کے مطابق ان کا نہیں خیال کہ اپنے عوام کے خلاف کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے والا شخص اس عمل کا حصّہ ہو۔

ہائیکو نے آگاہ کیا کہ شامی بحران کا ایسا حل تلاش کیا جائے گا جس میں خطے میں اثر و رسوخ رکھنے والے تمام فریق شریک ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں