عراقی منڈی ہمارے ہاتھوں سے نکل کر سعودی عرب کے پاس چلی گئی : ایرانی عہدے دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران میں یُوتھ انڈسٹری اینڈ کامرس اتھارٹی کے سربراہ رضا امیدوار تجریشی کا کہنا ہے کہ ایران نے عراقی منڈی سے ہاتھ دھونا شروع کر دیے ہیں جو کہ سعودی عرب کے مفاد میں ہے۔ تجریشی کے مطابق عراقی حکام سامان سے لدے ایرانی ٹرکوں کو داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔

ایرانی نیوز ایجنسی "اِلنا" کے مطابق تجریشی نے جمعے کے روز اپنے بیان میں کہا کہ تہران عراقی دارالحکومت بغداد میں اپنا اقتصادی مقام کھو رہا ہے اور اس کی جگہ سعودی عرب نے لے لی ہے۔

دوسری جانب مذکورہ ایرانی عہدے دار نے بغداد پر الزام عائد کیا کہ وہ تہران کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات میں شفافیت کا مظاہرہ نہیں کر رہا ہے۔ تجریشی نے عراق میں عسکری اخراجات کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جب کہ عراق کا اقتصادی نفع سعودی عرب کے حصّے میں جا رہا ہے۔

عراقی حکومت نے دو برس سے ایران سے آنے والے درآمد شدہ سامان پر کسٹم ڈیوٹی کو بڑھا دیا ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں ایران سے سامان کی درآمد میں کمی آئی ہے۔

تجریشی کے مطابق سعودی عرب اور عراق کے درمیان کسٹم ڈیوٹی میں کمی سے متعلق معاہدے کے نتیجے میں ایرانی کمپنیاں عراق کی منڈی سے محروم ہو گئیں۔ تجریشی نے بتایا کہ اس وقت عراق کی سیمنٹ کی ضرورت کو سعودی عرب پوری کر رہا ہے۔ اس سے پہلے یہ ضرورت ایران پوری کر رہا تھا تاہم کسٹم ڈیوٹی میں اضافے کے باعث یہ سلسلہ رک گیا۔

رضا امیدوار تجریشی نے اپنے ملک کی وزارت خارجہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان مسائل کو حل کرنے کے واسطے عراق کے ساتھ رابطہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ عراق کی تجارتی پالیسیوں سے ایرانی تاجروں اور کاروباری شخصیات کے لیے بڑے نقصانات ہو رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں