.

اسرائیلی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کی تعداد کتنی ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

آج 17 اپریل ہے اور اس روز اسرائیلی جیلوں میں موجود فلسطینی قیدیوں کے ساتھ یک جہتی کا دن منایا جاتا ہے۔

فلسطینی قومی کونسل نے 17 اپریل 1974ء کو اپنے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ آج کا دن "فلسطینی قیدیوں اور ان کی قربانیوں کے ساتھ وفا کے اظہار کے واسطے" قومی سطح پر منایا جائےگا۔

اس روز سے آج تک ہر سال یہ دن فلسطینی اراضی میں منایا جا رہا ہے۔

یومِ اسیران فلسطین کے موقع پر رام اللہ کے شمال میں الجلزون کیمپ کے ایک اسکول میں 15 سالہ فلسطینی طالبہ ملک الغلیظ نے اپنی ساتھی طالبات کے سامنے اُن 10 ماہ کا ذکر کیا جو اُس نے اسرائیلی جیلوں میں گزارے۔

ملک کو گزشتہ برس "چُھرا رکھنے" کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ملک نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ بیت المقدس کے شمال میں قلندیا چیک پوسٹ پر ایک اسرائیلی فوجی نے پہلے تو اُس پر مرچ والا اسپرے (Pepper Spray) چھڑکا اور پھر اُس کے ساتھ مسلسل 12 گھنٹوں تک پوچھ گچھ ہوتی رہی۔ ملک کے مطابق اسرائیلی تحقیق کاروں نے دھمکی دی کہ اگر ملک نے چھرے سے حملے کا ارادہ رکھنے کا اعتراف نہ کیا تو اس کے گھر والوں کو گرفتار کر لیا جائے گا۔ ملک نے جیل میں اپنے ساتھ موجود 11 بچیوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ "قابض اسرائیلی حکام جوان لڑکیوں یا چھوٹی بچیوں میں کوئی فرق نہیں برتتے"۔

اس وقت 6500 سے زیادہ فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔ ان میں سے بعض نے تو 30 برس سے زیادہ عرصہ قید میں گزار لیا ہے۔ گرفتار شدگان میں 350 سے زیادہ بچے بھی ہیں جن کو اپنے کم عمر ہونے کے لحاظ سے نامناسب حراست اور عدالتی کارروائی کا سامنا ہے۔

اسرائیلی جیلوں میں 62 خواتین قیدی ہیں جن میں 21 مائیں بھی ہیں۔ ان کے علاوہ فلسطینی قانون ساز کونسل کے 7 ارکان اور انتظامی طور پر حراست میں لیے گئے 500 ایسے افراد ہیں جن پر کوئی الزام نہیں اور انہیں اسرائیلی عدالتوں میں پیش نہیں کیا گیا۔

اسرائیلی جیلوں میں 119 صحافی بھی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہے ہیں جن کو کئی الزامات اور مخلتف نوعیت کی سزاؤں کے فیصلوں کا سامنا ہے۔