حوثی ملیشیا کے ہاتھوں بھرتی کیے گئے بچّوں کی نارمل زندگی کی جانب واپسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں جنگ کی آگ میں جھونکنے کے لیے حوثی ملیشیا کے ہاتھوں بھرتی کیے جانے والے بچوں کی بحالی کا نیا کورس شروع ہو گیا ہے۔ اس کورس کا مقصد پرتشدد ماحول سے نفسیاتی طور پر متاثر یمنی بچوں کو نارمل حالت میں لانا ہے۔

اس کورس کی فنڈنگ شاہ سلمان امدادی مرکز کی جانب سے کی گئی ہے اور اسے یمن کی وثاق فاؤنڈیشن کے زیر نگرانی کروایا جا رہا ہے۔ بحالی پروگرام کے تیسرے کورس کا آغاز ہفتے کے روز سے یمن کے شہر مارب میں ہوا جس میں 26 بچے شریک ہیں۔ حوثی ملیشیا نے ان بچوں کی کم عمری ، مذہبی اقدار اور بین الاقوامی قوانین کو کسی خاطر میں لائے بغیر انہیں جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا تھا۔ وہاں ان پھولوں نے اپنے ارد گرد خونریزی ، تشدد، گولہ بارود اور کٹی پھٹی لاشیں دیکھیں۔

شاہ سلمان امداری مرکز کی جانب سے بچوں کی بحالی کے اس منصوبے کو بین الاقوامی طور پر وسیع پیمانے پر سراہا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونیو گوتیریس نے پیر کے روز اپنے بیان میں یمن میں جنگ کے لیے بھرتی بچوں کے واسطے شاہ سلمان مرکز کے اس اقدام کو بھرپور انداز سے سراہا۔ انہوں نے باور کرایا کہ اقوام متحدہ اس تجربے اور معزز اقدام سے مستفید ہو گی۔ گوتیریس نے یہ بات شاہ سلمان مرکز کے دورے کے موقع پر کہی۔

یمنی بچوں کے بحالی پروگرام کے تحت اب تک مختلف صوبوں سے تعلق رکھنے والے 161 متاثرہ بچوں کو کامیابی کے ساتھ کورس کروایا جا چکا ہے۔ منصوبے کے تحت 2 ہزار یمنی بچوں کی اس کورس میں شرکت یقینی بنانا ہے جن کو حوثی ملیشیا نے بھرتی کر کے آلات جنگ اور انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں