کیا شام میں اسرائیل اور ایران کا براہ راست مقابلہ شروع ہو چکا ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

شام میں 9 اپریل کو التیفور کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنائے جانے کے بعد سے اسرائیل ایک سے زیادہ مرتبہ اس بات کی تردید کر چکا ہے کہ مذکورہ کارروائی میں اس کا کوئی ہاتھ ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع ایویگڈور لیبرمین نے 10 اپریل کو کہا تھا کہ وہ نہیں جانتے کہ التیفور پر بم باری کس نے کی۔ ساتھ ہی لیبرمین کا اس بات پر بھی زور تھا کہ اسرائیل کسی طور بھی ایران کو شام میں قدم جمانے نہیں دے گا۔

واضح رہے کہ اسرائیل ایک سے زیادہ مرتبہ اپنی سرحد اور مقبوضہ گولان کی پہاڑیوں کے نزدیک ایرانی وجود سے خبردار کر چکا ہے۔ اس نے گزشتہ برسوں میں ایک سے زیادہ مرتبہ ایسے قافلوں کو بم باری کا نشانہ بنایا جس کے بارے میں اس کا کہنا تھا کہ یہ ہتھیاروں کے ٹرک تھے جو حزب اللہ کے لیے اسلحہ لے کر جا رہے تھے۔

اسرائیلی وزیر دفاع لیبرمین نے پیر کے روز اپنی تازہ ترین وارننگ میں کہا تھا کہ اسرائیل کسی طور یہ قبول نہیں کرے گا کہ روس کی جانب سے شام میں یا خطّے میں تل ابیب کی سرگرمیوں پر کوئی پابندی عائد کی جائے۔ ایک نیوز ویب سائٹ "وآلا" کو دیے گئے وڈیو انٹرویو میں لیبرمین کا کہنا تھا کہ "ہم اپنا کام کرنے کی پوری آزادی برقرار رکھیں گے۔ ہم اپنے سکیورٹی مفادات کے حوالے سے کسی پابندی کو قبول نہیں کریں گے۔ تاہم ہم روس کو اشتعال دلانا نہیں چاہتے۔ ہمارے درمیان بڑے افسران کی سطح پر رابطے کے لیے اوپن کال ہے۔ روسی ہمیں سمجھتے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ہم کئی برس سے شام میں ان کے ساتھ ٹکراؤ سے اجتناب میں کامیاب ہیں"۔

ایسے میں جب کہ حمص میں الشعیرات اور دمشق کے نواح میں الضمیر کے ہوائی اڈوں پر بم باری کے بعد ابھی تک اسرائیل کا کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا.. بعض مغربی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ مذکورہ ہوائی اڈوں پر بم باری میں اسرائیل کے ملوث ہونے کا امکان ہے۔ اس لیے کہ اسرائیل کا ردّ عمل امریکا کے برعکس رہا جس نے اس حملے کے بعد فوری طور پر شام میں پیر اور منگل کی درمیانی سب کسی بھی عسکری کارروائی کرنے کی تردید کی۔

شام کے وسط میں ہونے کے سبب تزویراتی محل وقوع کے پیش نظر شام میں ایرانی فورسز الشعیرات کے ہوائی اڈے کو ہتھیاروں کی وصولی کے لیے استعمال کرتی ہیں اور پھر وہاں سے ملک کے دیگر علاقوں میں اسلحے کی ترسیل ہوتی ہے۔

لہذا منگل کو علی الصبح الشعیرات اور الضمیر کے ہوائی اڈوں پر بم باری کے بعد اب یہ سوال جنم لے رہا ہے کہ آیا شامی سرزمین پر ایران اور اسرائیل کا مقابلہ شروع ہو چکا ہے۔

نیویارک اخبار میں شائع ہونے والی ایک طویل رپورٹ میں امریکی کالم نگار تومس فریڈمین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ شام کا آتش فشاں پھٹے گا تاہم اس مرتبہ یہ ایران اور اسرائیل کے درمیان براہ راست جنگ کی صورت میں ہو گا۔ اس تجزیے کو کچھ عرصہ پہلے ایک سے زیادہ ایرانی عسکری عہدے داروں کی اُن دھمکیوں سے بھی تقویت ملتی ہے جن میں کہا گیا کہ جوابی کارروائی آنے کو ہے جو براہ راست شکل میں ہو گی۔

فریڈمین کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران تاریخ میں پہلی مرتبہ شام میں ایران اور اسرائیل کے درمیان براہ راست صورت میں ضربوں کا تبادلہ شروع ہوا۔ فریڈمین کے مطابق آئندہ ممکنہ تصادم دونوں ملکوں کے بیچ جنگ کا دوسرا مرحلہ ہو گا۔

اس سے قبل پہلا مرحلہ 10 فروری کو واقع ہو چکا ہے جب اسرائیلی اپاچی ہیلی کاپٹر نے حمص کے مشرق میں واقع شامی فضائی اڈے T-4 سے اڑان بھرنے والے ایرانی ڈرون طیارے کو راکٹ کے ذریعے مار گرایا تھا۔ اس کے بعد اسرائیلی طیاروں نے پیر کو علی الصبح ایرانی ڈرون طیاروں کے فضائی اڈے T-4 پر میزائلوں سے حملہ کیا۔ فریڈمین کے مطابق ایک اسرائیلی عسکری ذریعے کا کہنا تھا کہ "یہ پہلی مرتبہ ہے کہ ہم نے براہ راست ایرانی اہداف پر حملہ کیا"۔

فریڈمین کے مطابق اسرائیلی عسکری عہدے داران نے باور کرایا ہے کہ اسرائیل ماضی میں لبنان میں کی گئی غلطی کو نہیں دُہرائے گا جب حزب اللہ کو وہاں ایک بڑے خطرے میں تبدیل ہونے دیا گیا۔ اس مرتبہ شام میں ایران کو اس نوعیت کا کردار ادا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں