’او پی ڈبلیو سی‘ کو دوما میں کیمیائی حملے کی تحقیقات کی اجازت دے دی: روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

روس نے کہا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی خود مختار تنظیم ’او پی ڈبلیو سی‘ کے معائنہ کاروں کو شامی شہر دوما میں مبینہ کیمیائی حملے کے مقام پر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے جس کے بعد تنظیم کے رضاکار کل بدھ کو دوما کے لیے روانہ ہوں گے۔

روس نے مغربی ممالک کے الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ کیمیائی حملے سے متاثرہ مقام پر شواہد میں رد و بدل کر رہا ہے۔

امریکا، برطانیہ اور فرانس نے روس پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ حقائق پر پردہ ڈالنے اور بین الاقوامی ماہرین کو دوما میں حملے کے مقام پر جانے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی خود مختار تنظیم ’او پی ڈبلیو سی‘ کا کہنا ہے کہ شامی حکومت نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر اسے کیمیائی حملے کے مقام پر رسائی دینے سے انکار کیا تھا۔

پیر کو روسی فوج نے اعلان کیا ہے کہ بدھ کو بین الاقوامی معائنہ کاروں کو مبینہ کیمیائی حملے کے مقام پر جانے کی اجازت ہو گی۔

’او پی ڈبلیو سی‘ کی نو رُکنی ٹیم پہلے سے ہی شامی دارالحکومت دمشق کے قریب اجازت ملنے کا انتظار کر رہی ہے۔

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لافروف نے شام میں مشتبہ کیمیائی حملے کے مقام پر شواہد سے چھیڑ چھاڑ کی تردید کی ہے۔

او پی ڈبلیو سی کے ڈائریکٹر احمد اوز مجو کا کہنا ہے کہ انہیں دوما میں کیمیائی حملے کی تحقیقات کے لیے جانے سےروک دیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ شامی حکومت نے ان کے سامنے دوما کے 22 عینی شاہدین کو بہ طور گواہ پیش کیا ہے۔

کیمیائی حملوں کی تحقیقاتی تنظیم میں امریکا کے مندوب نے ایک بیان میں کہا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ روس دوما میں کیمیائی حملے کے شواہد مٹانے کی کوشش کررہا ہے۔ امریکی مندوب نے شام میں ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال سے باز رہنے کا مطالبہ کیا۔

تاہم روسی وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے دوما میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ سربراہان مملکت کے بارے میں ناشائستگی کا اظہار نہیں کر سکتے لیکن جیسا کہ آپ نے فرانس، امریکہ اور برطانیہ کے سربراہوں کا ذکر کیا تو صاف صاف بات کروں گا کہ جن شواہد کا وہ ذکر کر رہے ہیں وہ سوشل میڈیا سے حاصل کیے گئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس طرح کا واقعہ پیش نہیں آیا اور جو پیش آیا اس کو رچایا گیا تھا۔

’او پی ڈبلیو سی‘ میں برطانیہ کے خصوصی مندوب کا کہنا ہے کہ تنظیم کا شام میں کیمیائی حملوں کی تحقیقات میں ناکام رہنا اس نوعیت کے مزید وحشیانہ حملوں اور کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی راہ ہموار کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اوپی ڈبلیو سی کو سنہ 2014ء کے بعد شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی 390 شکایات موصول ہوئیں۔ برطانوی مندوب پیٹر ویلسن کا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ تنظیم کے رکن ممالک شام میں جنگی جرائم کے مرتکب عناصر کے خلاف ٹھوس اور مضبوط موقف اختیار کریں تاکہ شام کو کیمیائی حملوں کی بربریت سے باز رکھا جاسکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں