اسد رجیم کی دوما میں کیمیائی حملے کی خطرناک توجیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

چند ہفتے قبل شام کے دارالحکومت دمشق کے قریب دوما شہر میں مبینہ طور پر کیے گئے کیمیائی حملے میں شہریوں کی ہلاکتوں نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔

دوما میں کیمیائی حملے کے بعد اس کی مختلف وجوہات اور توجیہات سامنے آ رہی ہیں۔ لوگ یہ استفسار کرتے ہیں کہ آیا بشار الاسد کی فوج دوما میں عالمی سطح پر ممنوعہ اسلحہ استعمال کرنے پر مجبور ہوئی تھی اور اس نے کس مجبوری کے تحت ایسا کیا ہے۔ حالانکہ دوما میں اسدی فوج کا کنٹرول زیادہ مشکل نہیں تھا اور اسے وہاں پر کارروائی آگے بڑھانے کے لیے حلیفوں کی بھی بھرپور مدد حاصل تھی۔ روس کے ذریعے دوما میں موجود اپوزیشن گروپ جیش الاسلام مذاکرات بھی کر رہا تھا۔

دوما میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی جو بڑی توجیہ سامنے آئی وہ حیران کن ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ بشار الاسد نے کیمیائی حملے کا اس لیے حکم دیا تاکہ اپوزیشن کو کسی بڑے صدمے سے دوچار کر کے اسے سمجھوتہ کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔ یہ صدمہ کیمیائی حملے کے ذریعے ہی ممکن تھا۔ بارہ اپریل کو امریکی جریدے ’ایٹلانٹک‘ میں بھی دوما میں کیمیائی حملے کی قریبا یہی توجیہ بیان کی گئی تھی۔

’خاندان جنہوں نے اسد پر سب کچھ قربان کردیا‘ کے عنوان سے شائع کی گئی تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بشار الاسد کی فوج کی طرف سے دوما میں کیمیائی حملے کا سبب واضح نہیں ہو سکا حالانکہ اسدی فوج دوما میں اپنی کامیابی اور فتح کا اعلان بھی کر چکی تھی۔ زیادہ تر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ اسدی فوج نے محض اس لیے کیمیائی حملہ کیا تاکہ دوما کے شہریوں اور اپوزیشن کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق دوما میں سرگرم جیش الاسلام نے چند سال قبل بشار الاسد کے وفادار علوی قبیلے کے کچھ لوگوں کو گرفتار کر رکھا تھا۔

کہا جا رہا ہے کہ بشار الاسد نے جیش الاسلام کو گرفتار علوی عناصر کو رہا کرنے پر دباؤ میں لانے کے لیے دوما میں کیمیائی حملہ کیا۔ حالانکہ بشارالاسد کو یہ اندازہ بھی تھا کہ مغرب اس حملے کو گوارا نہیں کرے گا کیونکہ مغربی ممالک بشار الاسد کو متعدد بار خبردار کر چکے تھے کہ اگر اس نے کیمیائی ہتھیار استعمال کیے تو اسے اس کی سزا دی جائے گی۔

مگر بشار الاسد نے اپنے علوی قبیلے کو خوش کرنے اور ان کی ہمدردیاں سمیٹنے کے لیے جیش الاسلام کے زیرکنٹرول علاقوں پر کیمیائی حملہ کیا تاکہ علوی قبیلے کے گرفتار عناصر کو رہائی دلائی جا سکے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ بشار الاسد کے لیے علوی قبیلے کے گرفتار افراد کی رہائی انتہائی اہمیت کی حامل تھی مگر رہائی کا کوئی بھی آپریشن خطرناک نتائج کو موجب بھی بن سکتا تھا۔ بشارالاسد نے اپنے قبیلے میں اپنی آئینی حیثیت بچانے کے لیے دوما میں کیمیائی حملہ کیا۔

امریکی جریدے میں شائع کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روس اور جیش الاسلام کے درمیان مذاکرات کی بعض تفصیلات سامنے آ چکی تھیں۔ علوی قبیلے کے خاندان اپنے گرفتار افراد کی رہائی کے منتظر تھے مگر اچانک بشار الاسد کی فوج نے دوما پر کیمیائی حملہ کر کے نہ صرف جنگجو گروپ اور روسی فوج کے درمیان جاری مذاکرات کو ختم کر دیا بلکہ علویوں کی رہائی بھی کھٹائی میں پڑ گئی۔

علویوں نے دیکھا کہ جیش الاسلام کے جنگجو واپس اپنے بنکروں کی طرف لوٹ رہے ہیں اور ان کے ہاں گرفتار علویوں میں کوئی بھی رہا نہیں ہوا ہے تو اس پر علویوں کو سخت تشویش ہوئی۔ اس حملے نے روس اور جیش الاسلام کے درمیان جاری مذاکرات ختم کر دیے۔ اس وقت بشار الاسد نے دوما میں کیمیائی حملہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

کیمیائی حملہ اسد رجیم کی طرف سے دوما کی آبادی کے لیے ایک وارننگ تھی کہ اگر جیش الاسلام نے علوی قبیلے کے گرفتار افراد کو رہا نہ کیا تو دوما میں کسی شخص کو زندہ نہیں چھوڑا جائے گا۔ اپوزیشن کے حامی جنگجو گروپ کو دباؤ میں لانے کا اس سے بہتر اور کوئی حربہ نہیں ہوسکتا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دوما میں جیش الاسلام نے علوی قبیلے کے 200 یرغمالیوں کو رہا کیا جب کہ اس نے 7500 افراد کو یرغمال بنا رکھا تھا۔ مگر یرغمالیوں کی تعداد میں اضافہ محض بلیک میلنگ اور دباؤ میں لانے کا ہتھکنڈہ تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں