عراق : داعش سے تعلق کے جُرم میں 300 سے زیادہ افراد کو سزائے موت کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

عراق میں دو عدالتوں نے سخت گیر جنگجو گروپ داعش سے تعلق کے الزامات میں تین سو سے زیادہ افراد کو قصور وا ر قرار دے کر سزائے موت کا حکم دیا ہے۔ ان میں دسیوں غیرملکی بھی شامل ہیں۔

ان مشتبہ افراد کے خلاف شمالی شہر موصل کے نزدیک قائم کی گئی ایک عدالت اور دارالحکومت بغداد میں ایک عدالت میں مقدمہ چلایا گیا ہے۔داعش سے وابستہ غیر ملکیوں کے خلاف بغداد کی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا ہے۔

عدالتی ذرائع کے مطابق جنوری کے بعد سے بغداد کی عدالت نے 97 غیر ملکیوں کو سزائے موت سنائی ہے اور 185 کو عمر قید کی سزا کا حکم دیا ہے۔داعش سے تعلق کے جرم میں جن عورتوں کو سزائے موت یا عمر قید کا حکم دیا گیا ہے،ان میں زیادہ تر کا تعلق ترکی یا سابق سوویت یونین میں شامل جمہوریاؤں اور وسط ایشیائی ریاستوں سے ہے۔

جنوری میں عراق کی ایک عدالت نے ایک جرمن عورت کو داعش سے تعلق کے الزام میں قصور وار قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی اور منگل کے روز ایک فرانسیسی عورت کو عمر قید کا حکم دیا ہے۔

عراق کی سپریم جوڈیشیل کونسل کے ترجمان عبدالستار بیرقدار نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ موصل کے نزدیک واقع تل کیف میں قائم عدالت نے 212 افراد کو داعش سے تعلق کے جرم میں موت ، 150 کو عمر قید اور 341 کو مختلف مدت کی قید کی سزائیں سنائی ہیں ۔

انھوں نے کہا کہ ’’ عدالت میں مقدمات کی سماعت کے دوران میں یہ بات ثابت ہوئی تھی کہ ان افراد نے مجرمانہ کارروائیوں کا ارتکاب کیا تھا۔قانون کے مطابق قصور وار دیے گئے افراد کو دفاع کا حق دیا گیا تھا‘‘۔

عراق کی وزارت انصاف نے گذشتہ سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ دہشت گردی کے جرم میں سزائے موت پانے والے گیارہ افراد کو پھانسی دے دی گئی ہے۔

لیکن نیویارک میں قائم انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے عراق میں اس طرح تھوک کے حساب سے پھانسیوں پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ داعش سے وابستہ مشتبہ افراد کے خلاف عجلت میں مقدمات چلائے جارہے ہیں اور انھیں تمام قانونی تقاضے پورے کیے بغیر ہی سزائے موت سنائی جارہی ہے۔اس طرح طے شدہ عدالتی عمل کی خلاف ورزی کی جارہی ہے اور عام طور پر محض اعترافی بیانات پر سزائے موت سنا دی جاتی ہے جبکہ یہ اقبال جرم بعض اوقات تشدد کے ذریعے کرایا جاتا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی عراق میں سینیر محقق بلقیس وائل نے ایک بیان میں کہا کہ ’’عراق میں داعش سے وابستہ مشتبہ افراد کو نہ صرف حقیقی انصاف مہیا کرنے سے انکار کیا جارہا ہے بلکہ اس بات کا بھی خطرہ ہے کہ بے گناہ عراقیوں کو داعش سے تعلق کے الزام میں موت سے ہم کنار کیا جارہا ہے‘‘۔

عراق نے دسمبر 2017ء میں داعش کے خلاف جنگ میں فتح کا اعلان کیا تھا۔داعش نے جون 2014ء میں موصل میں اپنی حکومت کا ا علان کیا تھا اور انھوں نے آناً فاناً فتوحات حاصل کرتے ہوئے مختصر عرصے میں عراق کے قریباً ایک تہائی علاقے پر قبضہ کر لیا تھا لیکن عراقی فورسز نے امریکا کی قیادت میں اتحاد کی فوجی مدد سے انھیں ڈیڑھ ایک سال میں شکست سے دوچار کیا ہے اور ان کے زیر قبضہ تمام علاقے واپس لے لیے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں