عراق میں داعش کے لبنانی ،آسٹریلوی لیڈر کی گرفتاری کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

آسٹریلوی حکومت نے عراق میں داعش کے لبنانی نژاد لیڈر کی گرفتاری کی تصدیق کردی ہے۔اس سے پہلے میڈیا کے ذریعے یہ رپورٹ سامنے آئی تھی کہ سڈنی سے متحدہ عرب امارات جانے والی ایک پرواز کو دھماکے سے اڑانے کی سازش میں ملوث داعش کے مشتبہ کمانڈر اور اس کے ایک آسٹریلوی رشتے دار کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن (اے بی سی ) کی رپورٹ کے مطابق داعش کے لبنانی نژاد کمانڈر طارق خیاط اور اس کے ایک رشتے دار احمد مرحی کو اسی سال کے اوائل میں عراق میں گرفتار کیا گیا تھا لیکن ان کے کیسوں سے متعلق سفارتی حساسیت کے پیش نظر ان کی گرفتاری کو خفیہ رکھا گیا تھا۔

آسٹریلوی وزیر دفاع میریس پائن نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عراق میں ایک آسٹریلوی کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے لیکن کہا ہے کہ وہ اس کی شناخت کے بارے میں کچھ نہیں کہیں گے۔

آسٹریلوی پولیس نے مرحی پر سڈنی میں دہشت گردی کے مختلف حملوں کی سازش میں ملوث داعش کے ایک مقامی سیل سے روابط کا الزام عاید کیا تھا۔اسی سیل نے سڈنی کے اسٹیٹ پولیس ہیڈ کوارٹرز کے باہر ایک پولیس اکاؤنٹینٹ پر فائرنگ کی تھی۔

آسٹریلوی پولیس نے خیاط پر الزام عاید کیا ہے کہ انھوں نے سڈنی میں مقیم اپنے دونوں بھائیوں خالد اور محمود خیاط کو اتحاد ائیرویز کی ایک مسافر پرواز کو گذشتہ سال 15 جولائی کو دھماکے سے اڑانے کی ہدایت کی تھی۔ سڈنی سے یو اے ای آنے والے اس طیارے میں عملہ اور مسافروں سمیت 400 افراد سوار تھے۔

مگر آسٹریلوی حکام سڈنی کے ہوائی اڈے پر اس سازش کا سراغ لگانے میں ناکا م رہے تھے ۔اس کا اتحاد ائیر لائنز کے ایک چیک ان آفیسر نے اچانک پتا چلا لیا تھا۔اس سازش کا فوری طور پر اس لیے بھی پتا نہیں چل سکا تھا کیونکہ دھماکا خیز مواد والا بیگ طیارے میں رکھا ہی نہیں گیا تھا۔بعد میں چار افراد پر اس سازش کے الزام میں فرد جرم عاید کی گئی تھی۔مرحی آسڑیلیا سے تعلق رکھنے والے داعش کے پہلے جنگجو ہیں جن کی عراق میں گرفتاری عمل میں آئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں