غزہ کی سرحد کے نزدیک اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ سے پانچ فلسطینی زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

غزہ کی سرحد کے نزدیک اسرائیلی فوجیوں نے ایک مرتبہ پھر فلسطینیوں پر فائرنگ کردی ہے جس سے پانچ افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

غزہ میں فلسطین کی وزارت صحت نے بتایا ہے کہ سرحدی قصبے خان یونس کے مشرق میں اسرائیلی فوج نے حماس کے عسکری ونگ کے ایک اڈے پر توپ خانے سے گولہ باری کی ہے۔

اسرائیلی فوج نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس نے سرحد کی جانب آنے والے پانچ فلسطینیوں پر فائرنگ کی ہے۔ اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ ان میں سے ایک شخص مسلح تھا۔تاہم اس نے یہ نہیں بتایا کہ اس کے فوجیوں نے کس قسم کے ہتھیاروں سے فائرنگ کی ہے۔

غزہ کی پٹی کے سرحدی علاقے میں 30 مارچ سے ہزاروں فلسطینی اسرائیل کی چیرہ دستیوں کے خلاف سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوجیوں کی مظاہرین پر اندھا دھند وحشیانہ فائرنگ سے چونتیس فلسطینی شہید ہوچکے ہیں اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں لیکن اسرائیل کا کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ فلسطینیوں کے سرحدی باڑ کو نقصان پہنچانے یا سرحد سے دراندازی یا حملے کی کوشش کرنے پر فائرنگ کی گئی ہے جبکہ فلسطینی اسرائیلی فوج کے اس مضحکہ خیز دعوے کو تسلیم نہیں کرتے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ مظاہرین اسرائیلی فوجیوں کے لیے کسی قسم کے خطرے کا موجب نہیں تھے ۔

اسرائیل کو فلسطینی مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کے بعد انسانی حقوق کے گروپوں کی جانب سے کڑی تنقید کاسامنا ہے جبکہ یورپی یونین اور اقوام متحدہ کےسیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے فائرنگ کے واقعات کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا لیکن اسرائیل نے اس کو مسترد کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں