کیا "علوی سپریم کونسل" بشار الاسد پر دباؤ ڈالتی ہے ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

رواں ماہ کی بارہ تاریخ کو امریکی جریدے "دی اٹلانٹک" کی ویب سائٹ پر مشرق وسطی کے امور کے نامہ نگار اور اخباری کالم نگار سام داغر کی ایک رپورٹ شائع کی گئی۔ رپورٹ میں داغر کا کہنا ہے کہ بشار الاسد کو "دوما" شہر پر کیمیائی ہتھیاروں سے بم باری کرنے کے فیصلے پر مجبور کرنے میں شام کے علوی خاندانوں کا اہم کردار ہے۔

داغر کے مطابق بشار علوی فرقے میں اپنی پوزیشن کو محفوظ بنانے کی ہمہ وقت خواہش رکھتے ہیں۔ بصورت دیگر ان کے منصب اور اقتدار کے لیے خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔ داغر نے یہ واضح نہیں کیا کہ علویوں نے بشار پر دباؤ ڈالنے میں کامیابی کے لیے کیا طریقہ کار اختیار کیا۔ اس سے قبل یہ لوگ بشار کے ذریعے شامی اپوزیشن کے گروپ جیش الاسلام کی تحویل میں موجود علوی نوجوانوں کو آزاد کرانے میں ناکامی کا منہ دیکھ چکے تھے۔ اگرچہ شام میں علویوں کی تعداد بہت زیادہ نہیں تاہم شام کے سابق صدر حافظ الاسد کے وقت میں بھی اہم سیاسی اور عسکری فیصلوں میں "علوی سپریم کونسل" کا ہاتھ ہوتا تھا۔

شام میں روسی عسکری مداخلت سے چھ ماہ قبل یعنی مارچ 2015ء میں دمشق میں روس کے سابق عسکری اتاشی ولادیمیر فیودوروف نے ایک ٹیلی وژن گفتگو میں باور کرایا کہ حافظ الاسد علی سپریم کونسل تشکیل دینے میں مصروف ہوتے تھے۔ فیودوروف نے اس نوعیت کی کونسل کی موجودگی کی تصدیق کرتے ہوئے اتنا کہنے پر اکتفا کیا کہ "ہمیں اس کے وجود کا علم ہے اور یہ کافی ہے"۔

روسی عہدے دار نے تصدیق کی کہ علوی سپریم کونسل نے حافظ الاسد کو اس بات پر قائل کرنے میں بھی کردار ادا کیا کہ وہ اپنے بیٹے بشار کو جاں نشیں بنائیں۔ بشار کو وراثت میں اقتدار سونپنے کا خیال ایک شامی شخصیت کی جانب سے دیا گیا جو روس کے ساتھ عسکری تعاون کی نگرانی کر رہی تھی۔ فیودوروف کے مطابق خود روسیوں نے بھی حافظ الاسد کو تجویز پیش کی کہ ان کے بیٹے باسل کی وفات کے بعد اب بشار الاسد کو حافظ الاسد کا جاں نشیں ہونا چاہیے۔

سابق عسکری اتاشی کے مطابق حافظ الاسد ملک چلانے کے سلسلے میں اپنے بیٹے کی صلاحیتوں کے حوالے سے شکوک رکھتے تھے تاہم روس کی تجویز نے انہیں بشار کو اپنا جاں نشیں مقرر کرنے پر قائل کر دیا۔ حافظ الاسد نے اس وقت کے شامی وزیر دفاع مصطفی طلاس سے مطالبہ کیا کہ وہ بشار الاسد کے صدر بننے کے بعد اس کی معاونت کریں۔

ولادیمیر فیودوروف کا کہنا تھا کہ "ہم اس کونسل کے وجود کے بارے میں ویسے ہی علم رکھتے تھے جیسا کہ شامی پارلیمنٹ کے وجود کے بارے میں!"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "یقینا علوی سپریم کونسل کے فیصلوں اور سفارشات پر سنجیدگی سے غور کیا جاتا تھا"۔

علوی فرقہ جس سے بشار الاسد کا تعلق ہے، اس کی اکثریت علوی سپریم کونسل کے بارے میں کچھ نہیں جانتی۔ روسی سابق عسکری اتاشی کے مطابق اس کونسل کا صدر دفتر شامی ساحل پر واقع ہے تاہم انہوں نے جگہ کا تعین نہیں کیا۔

فیودوروف کے مطابق اس کونسل کے ارکان کی اکثریت سینئر علوی افسران پر مشتمل ہے جو علوی فرقے میں اپنے قبیلوں کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں۔

تاہم ایسا نظر آتا ہے کہ 2011ء میں شامی انقلابی تحریک کے آغاز کے بعد بھڑکنے والی جنگ نے علوی سپریم کونسل کے نام سے جانی جانے والی باڈی کی تشکیل نو کر دی۔ اسی کونسل کے ایک حد تک دباؤ نے بشار الاسد کو دوما میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر مجبور کر دیا۔ اس سلسلے میں بشار کی جانب سے مغربی دنیا کی دھمکیوں کو بھی خاطر میں نہیں لایا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں